حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 772
772 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرَى وَالصَّبِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(البقرة: 63) یعنی جو لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور جو لوگ یہود و نصاری اور ستارہ پرست ہیں جو شخص ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اعمال صالحہ بجالائے گا خدا اس کو ضائع نہیں کر یگا اور ایسے لوگوں کا اجران کے رب کے پاس ہے اور ان کو کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ غم۔یہ آیت ہے جس سے باعث نادانی اور کج فہمی یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اپنے نفس امارہ کے پیرو ہو کر حکمات اور بینات قرآنی کی مخالفت کرتے اور اسلام سے خارج ہونے کے لیے متشابہات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ان کو یاد رہے کہ اس آیت سے وہ کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا اس بات کو مستلزم پڑا ہوا ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا جائے وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اللہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔اور یوم آخر قرآن شریف کی رو سے یہ ہے جس میں مردے جی اٹھیں گے اور پھر ایک فریق بہشت میں داخل کیا جائے گا جو جسمانی اور روحانی نعمت کی جگہ ہے۔اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جاوے گا جو روحانی اور جسمانی عذاب کی جگہ ہے۔اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس یوم آخر پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود لفظ اللہ اور یوم آخر کے بتفریح ایسے معنی کر دیئے جو اسلام سے مخصوص ہیں تو جو س اللہ پر ایمان لائے گا اور یوم آخر پر ایمان لائے گا اس کے لئے یہ لازمی امر ہوگا کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنے ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں ہم نے اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو غور سے دیکھا ہے اور توجہ سے دیکھا۔اور بار بار دیکھا اور اس کے معنی میں خوب تدبر کیا ہے ہمیں بدیہی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے مثلاً کہا گیا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ایسا ہی اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن اتارا۔اللہ وہ ہے جس نے محمد رسول اللہ