حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 771
771 معانی و آیات میں باہم معنوی اختلاف نہ ہو۔أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ، وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔(النساء: 83) فاشار في هذه الاية ان الاختلاف لا يوجد في القرآن و هو كتاب الله و شانه ارفع من هذا و اذ اثبت ان كتاب الله منزه عن الاختلافات فوجب علينا ان لا نختار في تفسيره طريقا يوجب التعارض والتناقض۔(حمامتہ البشری۔رخ۔جلد 7 صفحہ 256 حاشیہ الف) (ترجمہ) اس آیت میں (اللہ تعالیٰ نے ) اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قرآن مجید میں اختلاف نہیں پایا جاتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ کی شان ایسے امور سے بالا ہے اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن مجید اختلافات سے پاک ہے تو ہم پر واجب ہے کہ اس کی تفسیر کرتے وقت ہم کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو تعارض اور تناقض کا موجب ہو۔اگر وحی نبوت میں کبھی کچھ بیان ہو اور کبھی کچھ تو اس سے امان اٹھ جاتا ہے (ایام الصلح۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 409) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگر ان کے نزدیک کوئی اختلاف ہوتا تو وہ پیش کرتے۔مگر سب ساکت ہو گئے اور کسی نے دم نہ مارا اور اختلاف کیونکہ اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکز کے گردگھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرایہ میں خدا کی توحید پر قائم کرنا اور ہوا و ہوس چھوڑ کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدعا ہے۔ہم علی وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں کہ توفی کے معنی لغت عرب میں نہ کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں۔تمام قرآن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیئے قرآن خدائے علیم و خبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے اس میں اختلاف ہرگز نہیں۔بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 599) چشمه معرفت - ر- خ - جلد 23 صفحہ 198 )