حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 745
745 کمال صدیقیت کے مراتب گر کفر این بود بخدا سخت کافرم بعد از خدا بعشق محمد محمرم خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کا فر ہوں۔ہر تارو پود من بسراید بعشق او از خود تهی و از غم آن دلستاں پرم میرے ہر رگ وریشہ میں اس کا عشق رچ گیا ہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس معشوق کے غم سے پُر ہوں۔من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است زہر بادِ صرصرم میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اسی کا ہاتھ ہر تیز ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔( درشین فارسی متر جم صفحه 166 ) (ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 185) اور دوسرا کمال جو بطور نشان کے امام الاولیاء اور سید الاصفیاء کے لئے ضروری ہے وہ فہم قرآن اور معارف کی اعلیٰ حقیقت تک وصول ہے۔یہ بات ضروری طور پر یا درکھنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف کی ایک ادنیٰ تعلیم ہے اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ۔اور جو اعلیٰ تعلیم ہے۔وہ اس قدر انوار معارف اور حقائق کی روشن شعاعوں اور حقیقی حسن اور خوبی سے پر ہے جواد فی ایا اوسط استعداد کا اس تک ہرگز گز ر نہیں ہوسکتا۔بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے اہل صفوت اور ارباب طہارت فطرت ان سچائیوں کو پاتے ہیں جن کی سرشت سراسر نور ہو کر نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔سواؤل مرتبہ صدق کا جو انکو حاصل ہوتا ہے دنیا سے نفرت اور ہر ایک لغو امر سے طبعی کراہت ہے۔اور اس عادت کے راسخ ہونے کے بعد ایک دوسرے درجہ پر صدق پیدا ہوتا ہے۔جس کو انس اور شوق اور رجوع الی اللہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔اور اس عادت کے راسخ ہونے کے بعد ایک تیسرے درجہ کا صدق پیدا ہوتا ہے جس کو تبدل اعظم اور انقطاع اتم اور محبت ذاتیہ اور فنافی اللہ کے درجہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔اور اس عادت کے راسخ ہونے کے کے بعد روح حق انسان میں حلول کرتی ہے اور تمام پاک سچائیاں اور اعلیٰ درجہ کے معارف و حالات بطریق طبیعت و جبلت بکمال وجد و شرح صدر اس شخص کے نفس پاک پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور عمیق در عمیق معارف قرآنیہ ونکات شرعیہ اس شخص کے دل میں جوش مارتے اور زبان پر جاری ہوتے ہیں۔اور وہ اسرار شریعت اور لطائف طریقت اسپر کھلتے ہیں جو اہل رسم اور عادت کی عقلیں ان تک پہنچ نہیں سکتیں۔کیونکہ یہ شخص مقام نفحات الہیہ پر کھڑا ہوتا ہے۔اور روح القدس اس کے اندر بولتی ہے اور تمام کذب اور دروغ کا حصہ اس کے اندر سے کاٹا جاتا ہے۔کیونکہ یہ روح سے پاتا اور روح سے بولتا اور روح سے لوگوں پر اثر ڈالتا ہے۔اور اس حالت میں اس کا نام صدیق ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے اندر سے بکلی کذب کی تاریکی نکلتی اور اس کی جگہ سچائی کی روشنی اور پاکیزگی اپنادخل کرتی ہے اور اس مرتبہ پر اعلی درجہ کی سچائیوں کا ظہور اور اعلیٰ معارف کا اس کی زبان پر جاری ہونا اس کے لئے بطور نشان کے ہوتا ہے۔اسکی پاک تعلیم جو سچائی کے نور سے خمیر شدہ ہوتی ہے۔دنیا کو حیرت میں ڈالتی ہے۔اسکے پاک معارف جو سر چشمہ فنافی اللہ اور حقیقت شناسی سے نکلتے ہیں تمام لوگوں کو تعجب میں ڈالتے ہیں۔اور اس قسم کا کمال صدیقیت کے کمال سے موسوم ہے۔تریاق القلوب -رخ- جلد 15 صفحہ 419-418)