حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 746
746 صادق کامل لَّوْشَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا منْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔(يونس: 17) انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راست بازی کی قومی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے۔حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (سوره يونس الجزو (11) یعنی میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افترا کروں۔دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا۔پھر کیا تم کواتنی سمجھ نہیں یعنی یہ سمجھے کہ جس نے بھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہورہی ہے۔( براهین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 107-108) اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکذبین کو ملزم کیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ 512 میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گزر گئے اور وہ یہ ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُون یعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدر مدت دراز تک یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ بر خلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے لگا۔تریاق القلوب - ر- خ- جلد 15 صفحہ 283) الرا كِتَبٌ أَحْكِمَتْ ايْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ۔(هود:2) قرآن کریم کی تعلیموں کو اللہ تعالیٰ نے کئی طرح پر مستحکم کیا تا کہ کسی قسم کا شک نہ رہے اور اسی لئے شروع میں ہی فرمایا لاَ رَيْبَ فِيهِ (البقرہ:3) یہ استحکام کئی طور پر کیا گیا ہے۔تیسرا احکام نبی کا پاک چال چلن اور راست بازی ہے۔یہ منجملہ ان باتوں کے ہے جو عقلمندوں کے نزدیک امین ہونا بھی ایک دلیل ہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے اس سے دلیل پکڑی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 343)