حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 744 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 744

744 صادق کی تعریف صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہواور پھر کامل اور طبعی طور پر ان پر قائم بھی ہو۔مثلاً اس کو ان معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اس کی اطاعت کیا شے اور محبت باری عزاسمہ کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخاصی حاصل ہو سکتی ہے اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور توبہ کی حقیقت کیا اور صبر اور توکل اور رضا اور محویت اور فنا اور صدیق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفوا اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقاوغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں۔پھر ماسوا اس کے ان تمام صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو۔تریاق القلوب - ر- خ- جلد 15 صفحہ 420) صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے۔یعنی جو بالکل راست بازی میں فنا شدہ ہو۔اور کمال درجہ کا پابند راست بازی اور عاشق صادق ہو۔اس وقت وہ صدیق کہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا مقام ہے جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راست بازیوں کا مجموعہ اور ان کو کشش کرنے والا ہو جاتا ہے جس طرح پر آتشی شیشہ سورج کی شعاعوں کو اپنے اوپر جمع کر لیتا ہے اسی طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے۔زرزر کشد در جہاں گنج گنج جب ایک شے بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے تو اس قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت اس ( ملفوظات جلد اول صفحہ 242) میں پیدا ہو جاتی ہے۔صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں سب سے بڑا صدق لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ ہے اور پھر دوسرا صدق مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ ہے وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں۔۔۔صدیق عملی طور پر صدق سے پیار کرتا اور کذب سے پر ہیز کرتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه (342) صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔الہامی اشعار صادق آن باشد که ایام بلا اگر قضا را عاشقی گردد اسیر! تریاق القلوب - ر- خ - جلد 15 صفحہ 516) گذارد با محبت با وفال بوسد آن زنجیر را کز آشنا! ے صادق وہ ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے دن محبت اور وفاداری سے گذارتا ہے۔اگر قضائے الہی سے عاشق قید ہو جاتا ہے تو وہ اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہو۔(کتاب البرية - ر-خ- جلد 13 سرورق ) ، ۲: دونوں شعر الہامی ہیں۔تذکرہ