حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 743
743 بكار خانہ قدرت ہزارہا نقش اند مگر تجلی رحماں نقش ما باشد قدرت کے کارخانے میں ہزاروں نقش ہیں۔مگر رحمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے۔بیامدم که ره صدق را درخشانم بدلستاں برم آن را که پارسا باشد میں اس لیے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اسے لے چلوں جو نیک و پارسا ہے۔بیامدم که در علم و رشد بکشایم بخاک نیز نمایم که در سما باشد میں اس لیے آیا ہوں کہ علم وہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمین کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمانی ہیں۔( در مشین فارسی مترجم صفحه 273 ) ( تریاق القلوب - ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 134) صدق کامل اس وقت تک جذب نہیں ہوتا جب تک تو بتہ النصوح کے ساتھ صدق کو نہ کھینچے قرآن کریم تمام صداقتوں کا مجموعہ اور صدق تام ہے جب تک خود صادق نہ بنے صدق کے کمال اور مراتب سے کیونکر واقف ہوسکتا ہے۔صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے اس لیے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: 80) فرمایا گیا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 276) انسان کو انوار و برکات سے حصہ نہیں مل سکتا جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔( التوبة : 119 ) بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ انوار و برکات تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت پہنچی۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 518 ) مرا بگلشن رضوان حق شد ست گذر مقام من چمن قدس و اصطفا باشد اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغ میں میرا گذر ہوا۔میرا مقام برگزیدگی اور تقدس کا چمن ہے۔کمال پاکی و صدق وصفا که گم شده بود دوباره از سخن و وعظ من بپا باشد پاکیزگی اور صدق وصفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھاوہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے۔مرنج از تخم ایکه سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے وہ شخص جو بالکل بیخبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے۔کیکه گم شده از خود بنور حق پیوست ہر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد جو شخص اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جاملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہوگی۔در مشین فارسی مترجم صفحه 272 ) ( تریاق القلوب - ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 134)