حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 735 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 735

735 يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًاء وَ مَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ۔(البقره:270) اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کیے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔گوعوام اور علماء ظواہر کو اس کی طرف راہ نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 93) قرآن کے دقائق و معارف ضرورتِ زمانہ کے مطابق کھلتے ہیں قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے و ان من شيء الا عندنا خزائنه وما ننزله الا بقدر معلوم (الحجر: 22) یعنی دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقد رضرورت و مقتضائے مصلحت و حکمت ہم ان کو اُتارتے ہیں۔اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ہر یک چیز جود نیا میں پائی جاتی ہے وہ آسمان سے ہی اتری ہے۔اس طرح پر کہ ان چیزوں کے عمل موجبہ اسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اور نیز اس طرح پر کہ اسی کے الہام اور القاء اور سمجھانے اور عقل اور فہم بخشنے سے ہر ایک صنعت ظہور میں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتے اور ہر یک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق دی جاتی ہے۔علی ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق ہی کھلتے ہیں۔مثلاً جس زمانہ میں ہم ہیں اور جن معارف فرقانیہ کے بمقابل دجالی فرقوں کے ہمیں اس وقت ضرورت آپڑی ہے وہ ضرورت ان لوگوں کو نہیں تھی جنہوں نے ان دجالی فرقوں کا زمانہ نہیں پایا۔وہ باتیں ان پرمخفی رہیں اور ہم پر کھولی گئیں۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 451-450) زمانے کی ضرورت کے مطابق روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة : 3) یعنے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے۔۔۔۔۔۔قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں۔بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کارروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کارروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔(شہادت القرآن - ر-خ- جلد 6 صفحہ 348)