حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 736
736 حضرت اقدس کو آپ کے زمانہ کی ضرورت کے مطابق معارف عطا ہوئے میں اس وقت محض اللہ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تا کہ میں اس پر آشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور ان تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں ان نوروں اور برکات اور خوارق اور علوم لدنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔( بركات الدعا۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 34) صاحب نور خدا کی طرف سے آتا ہے على لــربــى نـعـمـة بـعـد نعمة فلازلت فـي نـعـمــائــه اتـقـلـب مجھ پر میرے خدا کی نعمت پر نعمت ہے۔میں ہمیشہ اس کی نعمتوں میں لوٹ پوٹ رہتا ہوں وان رسول الله شمس منيرة و بعد رسول الله بدر و کوکب اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو روشنی دینے والے سورج ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں کا چاند اور ستارے ہیں جرت عادة الله الذي هو ربـــنــــا یری وجه نور بعد نور يذهب اللہ تعالیٰ جو ہمارا رب ہے اس کی یہ عادت جاری ہے کہ وہ ایک نور کے جانے کے بعد دوسرے نور کا چہرہ دکھا دیتا ہے كذلك فـي الــدنيـــا نـــرى قـانـونــه نجوم السما تبدوا اذا الشمس تغرب اسی طرح دنیا میں ہم اس کا قانون پاتے ہیں کہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو آسمان کے ستارے ظاہر ہو جاتے ہیں (کرامات الصادقین۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 103 ) ( در نشین عربی۔القصائد العربیہ نیا ایڈیشن صفحہ 102) سچ تو یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتا وہ قرآن کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ قرآن ہدایت کیلئے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدایتیں اس شخص کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں جسپر قرآن نازل ہوا یا وہ شخص جو منجانب اللہ اس کا قائم مقام ٹھہرایا گیا اگر قرآن اکیلا ہی کافی ہوتا تو خدا تعالیٰ قادر تھا کہ قدرتی طور پر درختوں کے پتوں پر قرآن لکھا جاتا یا لکھا لکھا یا آسمان سے نازل ہو جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کو دنیا میں نہیں بھیجا جب تک معلم القرآن دنیا میں نہیں بھیجا گیا۔قرآن کریم کو کھول کر دیکھو کتنے مقام میں اس مضمون کی آیتیں ہیں کہ یعلمهم الكتاب والحكمة (الجمعة: 3) پہنے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے اور پھر ایک جگہ اور فرماتا ہے ولا يمسه الا المطهرون (الواقعة:80) نے قرآن