حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 720
720 دوسری فصل فہم قرآن اور تائید وحی والہام یہ بات تو سچ ہے کہ قرآن کریم ہدایت دینے کے لئے کافی ہے مگر قرآن کریم جس کو ہدایت کے چشمہ تک پہنچاتا ہے اس میں پہلی علامت یہی پیدا ہو جاتی ہے کہ مکالمہ طیبہ الہیہ اس سے شروع ہو جاتا ہے جس سے نہایت درجہ کی انکشافی معرفت اور چشمدید برکت و نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ عرفان حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے جو مجرد تقلیدی انکلوں یا عقلی ڈھکوسلوں سے ہرگز مل نہیں سکتا کیونکہ تقلیدی علوم محمد و دو مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص و نا تمام ہیں اور ہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان توسیع کریں۔کیونکہ جس قدر ہمارا عرفان ہو گا اسی قدرہم میں ولولہ وشوق جوش مارے گا۔کیا ہمیں باوجود ناقص عرفان کے کامل ولولہ وشوق کی کچھ توقع ہے؟ نہیں کچھ بھی نہیں۔سوحیرت اور تعجب ہے کہ وہ لوگ کیسے بد ہم ہیں جو ایسے ذریعہ کاملہ وصول حق سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتے ہیں جس سے روحانی زندگی وابستہ ہے۔یا درکھنا چاہیئے کہ روحانی علوم اور روحانی معارف صرف بذریعہ الہامات و مکاشفات ہی ملتے ہیں اور جب تک ہم وہ درجہ روشنی کا نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتی۔صرف کوے کی طرح یا کھیڈی کی مانند ایک نجاست کو ہم حلوہ سمجھتے رہیں گے اور ہم میں ایمانی فراست بھی نہیں آئے گی۔صرف لومڑی کی طرح داؤ پیچ بہت یاد ہوں گے۔(ازالہ اوہام جلد 3 صفحہ 328-327) لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اسکے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کا کام نہیں۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو ا سکے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقه قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : 80) اور جیسا کہ وعدہ ہے۔يؤتى الحكمة من يشاء و من يؤت الحكمة فقداوتى خيرا كثيرًا (البقرة:270) اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔گوعوام اور علماء ظواہر کو اس کی طرف راہ نہیں۔الحق بحث لدھیانہ۔۔۔خ۔جلد 4 صفحہ 93) اب یہ بھی یادر ہے کہ عادت اللہ ہر ایک کامل مہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہے ہیں بلکہ بسا اوقات ایک مہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طور پر القاء ہوتی ہے اور اصل معنی سے پھیر کر کوئی اور مقصود اس سے ہوتا ہے (ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 261)