حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 719
719 الله نور فيميل الى النور۔وعادته البدور الى البدور ولما كانت هذه عادة الله باولياء ه۔وسنته بعباده المنقطعين واصفياء ٥ لزم ان لايرى عبده المقبول وجه ذلة۔ولا ينسب الى ضعف و علة عند مقابلة من اهل ملة و يفوق الكل عند تفسير القرآن۔بانواع علم و معرفة۔و قد قيل ان الولي يخرج من القرآن و القرآن يخرج من الولى۔و ان خفايا القرآن لا يظهر الا على الذي ظهر من يدى العليم العلى۔فان كان رجل ملك وحده هذا الفهم الممتاز۔فمثله كمثل رجل اخرج الركاز۔(اعجاز امسح - ر-خ - جلد 18 صفحہ 47-46) ( ترجمه از مرتب) چونکہ اللہ تعالیٰ نور ہے وہ نور ہی سے دوستی رکھتا ہے اور اس کی عادت ہے کہ چودھویں کے چاندوں ہی کو روشن کرتا ہے۔جبکہ اولیاء اور منقطعین اور اصفیاء سے اللہ کی یہی سنت ہے تو پھر لازم ہے کہ اس کا مقبول انسان کبھی ذلت کا منہ نہ دیکھے اور قوم سے مقابلہ کے وقت اس میں کوئی کمزوری اور کم علمی ظاہر نہ ہو اور وہ تفسیر قرآن میں دیگر سب مفسرین سے بہتر ہو۔اور کہا گیا ہے کہ ولی قرآن سے پیدا ہوتا ہے اور قرآن ولی سے۔اور قرآن کے مخفی راز صرف اسی پر کھلتے ہیں۔جو علیم اور اعلیٰ اور اعلیٰ خدا کے ہاتھ سے ظاہر ہوا۔اگر کسی انسان کو قرآن کا ایسا ممتاز فہم عطا ہوا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ اس نے ایک مدفون خزینہ معلوم کر لیا ہو۔گفت پیغمبر ستوده صفات از خدائے علیم مخفیات ستودہ صفات پیغمبر نے۔غیب دان علیم خدا سے علم پا کر کہا ہے۔بر سر ہر صدی برون آید آنکه این کار را ہے شاید کہ ہر صدی کے سر پر ایسا شخص ظاہر ہوتا ہے جو اس کام کے لایق ہوتا ہے۔شود پاک ملت از بدعات تا بیابند خلق و برکات تا کہ مذہب بدعات سے پاک ہو جائے۔اور مخلوق اس سے برکتیں حاصل کرے۔الغرض ذات اولیائے کرام ہست مخصوص ملت اسلام خلاصہ کلام یہ کہ اولیائے کرام کی ذات مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص ہے۔در مشین فارسی مترجم صفحه 84 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 362)