حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 721
721 وجی ولایت اہم معیار فہم قرآن ہے ساتواں معیار وحی ولایت اور مکاشفات محدثین ہیں۔اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے کیونکہ صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام واکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔سو اس کا بیان محض اٹکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سنکر بولتا ہے اور یہ راہ اس امت کے لئے کھلی ہے ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے اور ایک شخص جو دنیا کا کیڑا اور دنیا کے جاہ وجلال اور ننگ و ناموس میں مبتلا ہے وہی وارث علم نبوت ہو کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بجز مطہرین کے علم نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ تو اس پاک علم سے بازی کرنا ہے کہ ہر ایک شخص باوجود اپنی آلودہ حالت کے وارث النبی ہونے کا دعوی کرے۔اور یہ بھی ایک سخت جہالت ہے کہ ان وارثوں کے وجود سے انکار کیا جائے۔( بركات الدعاء - ر-خ- جلد 6 صفحہ 19 تا 21) اے اسیر عقل خود بر ہستی ، خود کم بناز کیں سپر بوالعجائب چوں تو بسیار آورد اے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لا یا کرتا ہے۔غیر را ہرگز نمے باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسماں او ر از آن یار آورد خدا کے کوچہ میں غیر کو ہر گز دخل نہیں جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے۔خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است ہر که از خود آورد اونجس و مردار آورد آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اس کا مطلب بیان کرتا ہے وہ گندگی اور مردار پیش کرتا ہے۔بركات الدعا- ر- خ- جلد 6 صفحہ 5 )