حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 589 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 589

589 م مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قومی اور حواس کی تکمیل ہو اس حکیم قادر نے ہماری روحانیت کے لئے بھی یہی انتظام پسند کیا ہوگا کیونکہ وہ واحد لاشریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل انیہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کے لئے محمد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں انہیں کا نام ہم ملائک رکھتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 135-133 حاشیہ) فرشتوں کی حقیقت معلوم کرنا منع ہے فكذلك الملائكة الذين كانوا فى صبغة صفات ربهم كمثل انصباغ الظل بصبغة اصــلـه لا نعرف حقيقتها و نومن بها كيف نشبه احوالهم باحوال انسان نعرف حقيقة صفاته و حدود خواصه وسكناته وحركاته و قد منعنا الله من هذا و قال ما يعلم جنو دربك الاهو۔فاتقوا الله يا ارباب النهى۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ - جلد 5 صفحہ 387-386) ( ترجمہ ) اسی طرح ملائکہ کا حال ہے جو اپنے خدا کی صفات میں اسی طرح رنگین ہیں جس طرح سایہ اپنے اصل کا رنگ رکھتا ہے۔ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے لیکن اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر ہم ان کے حالات کو کس طرح ایسے انسان کے حالات سے مشابہہ قرار دے سکتے ہیں جس کی صفات کی حقیقت کو ہم جانتے ہیں۔اس کی خاصیتوں کی حدود۔سکنات اور حرکات کو جانتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرشتوں کی حقیقت میں جانے سے منع فرمایا ہے اور کہا ہے مَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ( المدثر : 32) کہ اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اے عظمندو! اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو۔ایمان بر ملائکہ اور ابلیس وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلِئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ اَفَتَتَّخِذُونَهُ وَ ذُرِّيَّتَهُ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظَّلِمِينَ بَدَلًا۔(الكهف: 51) اصل بات یہ ہے کہ قانون الہی ملائکہ و ابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے لیکن آخر کا ر ارادہ الہی غالب آجاتا ہے گویا پس پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر ومقتدرحق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست۔چار چیزیں ہیں جن کی کنہ وراز کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالا تر ہے۔اول۔اللہ جل شانہ۔دویم روح۔سویم۔ملائکہ چہارم۔اہلیں۔ہر شخص ان چہاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور اس کے صفات الوہیت پر ایمان رکھتا ہے۔ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء روح و ملائکہ وابیس پر ایمان لائے۔