حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 590 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 590

590 انسان کو ہر حال میں رضائے الہی پر چلنا چاہیئے اور کارخانہ الہی میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیئے۔تقویٰ اور طہارت اطاعت و وفا میں ترقی کرنی چاہیئے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق و اخلاص اپنے مولی تکریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جوعلم الہی میں مخفی ہیں اس کے کنہ معلوم کرنے میں بے سود کوشش نہ کرے جو شخص ہر ایک چیز کی خواص و ماہیت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ ربی اور اس کی منشاء سے بالکل ناواقف و نابلد ہے اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھلاؤ تو کہنا چاہئے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناً بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکسار و فروتنی و عجز و نیاز میں گر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قومی ہیں وہ ان دو الفاظ ملک و شیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 313-312) شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا یہ لفظ شریط سے نکلا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 39) جو وجود شرانگیز ہے۔یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذوالعقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اس کا اثر ہریک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اس قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سو جھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہو جاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آ کر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں۔سرمه چشم آریہ۔ر۔خ۔جلد 2 صفحہ 251-250 حاشیہ ) بعض فرقے جو شیطان کے وجود سے منکر ہیں وہ تعجب کریں گے کہ شیطان کیا چیز ہے پس ان کو یا در ہے کہ انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہر وقت نوبت به نوبت لگی رہتی ہیں ایک کشش خیر کی اور ایک کشش شرکی۔پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے اور جو شر کی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے اور مدعا صرف اس قدر ہے کہ انسانی سرشت میں دو کششیں موجود ہیں کبھی انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی بدی کی طرف۔لیکچر لاہور۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 179)