حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 588
588 إِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسرائیل: 45) جو لوگ ملائک سے انکار کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلوم نہیں کہ دراصل جس قد را شیا دنیا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 262) میں موجود ہیں ذرہ ذرہ پر ملائکہ کا اطلاق ہوتا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ بغیر اس کے اذان کے کوئی چیز اپنا اثر نہیں کر سکتی یہاں تک کہ پانی کا ایک قطرہ بھی اندر نہیں جاسکتا اور نہ وہ مؤثر ہوسکتا ہے وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِہ کے یہی معنے ہیں۔ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ذرہ ذرہ کو خدا کے فرشتے مان نہ لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جود نیا میں پائی جاتی ہیں خدا کے فرشتے تسلیم نہ کر لیں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغیرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خود بخود ہورہے ہیں اور اس صورت میں خدا تعالیٰ کو محض معطل اور بے خبر ماننا پڑے گا۔پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے تو حید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تاثیر کوخدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلم ہے تو پھر جبرائیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے؟ (چشمہ معرفت۔رخ۔جلد 23 صفحہ 181 حاشیہ) وَأَنَّا لَمَسُنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَها مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَ شُهُبًا۔(الجن: 9) اور ہم فرشتوں کے وجود اور ان کی ان خدمات پر کسی قدر اس رسالہ میں بحث کر آئے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ فرشتوں کا وجود ماننے کے لئے نہایت سہل اور قریب راہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کی توجہ اس طرف مبذول کریں کہ یہ بات طے شدہ اور فیصل شدہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ظاہری تربیت اور تکمیل کے لئے اور نیز اس کام کے لئے کہ تا ہمارے ظاہری حواس کے افعال مطلوبہ کما ینبغی صادر ہو سکیں۔خدا تعالیٰ نے یہ قانون قدرت رکھا ہے کہ عناصر اور شمس وقمر اور تمام ستاروں کو اس خدمت میں لگا دیا ہے کہ وہ ہمارے اجسام اور قومی کو مدد پہنچا کر ان سے بوجہ احسن ان کے تمام کام صادر کرا دیں اور ہم ان صداقتوں کے ماننے سے کسی طرف بھاگ نہیں سکتے کہ مثلاً ہماری آنکھ اپنی ذاتی روشنی سے کسی کام کو بھی انجام نہیں دے سکتی جب تک آفتاب کی روشنی اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور ہمارے کان محض اپنی قوت شنوائی سے کچھ بھی سن نہیں سکتے۔جب تک کہ ہوا متکیف الصوت ان کی مد و معاون نہ ہو۔پس کیا اس سے ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے ہمارے قومی کی تکمیل اسباب خارجیہ میں رکھی ہے اور ہماری فطرت ایسی نہیں ہے کہ اسباب خارجیہ کی مدد سے مستغنی ہو اگر غور سے دیکھو تو نہ صرف ایک دو بات میں بلکہ ہم اپنے تمام حواس تمام قومی تمام طاقتوں کی تکمیل کے لئے خارجی امدادات کے محتاج ہیں پھر جبکہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قومی اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری روحانی تکمیل اور روحانی اغراض کے لئے بھی یہی انتظام ہوتا۔دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں اور خود ظاہر ہے کہ جس