حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 570 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 570

570 ( ترجمہ ) اور آپ جانتے ہیں کہ عوام الناس کے نزدیک کسی چیز کا اسم وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز پہچانی جاتی ہے عین خواص اور اہل علم کے نزدیک اسم شے کی اصل حقیقت کے لیے بطور ظل کے ہے بلکہ یہ امر یقینی ہے کہ اشیاء کے جو نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں یہ تمام نام ان چیزوں کے لیے ان کی نوعی صورتوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ نام معانی اور علوم حکمیہ کے پرندوں کے لیے بمنزلہ گھونسلوں کے ہیں۔اور اس با برکت آیت میں اللہ رحمن اور رحیم ناموں کا یہی حال ہے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے خصائص اور اپنی مخفی ماہیت پر دلالت کرتا ہے اور اللہ اس ذات الہی کا نام ہے جو تمام کمالات کی جامع ہے اور اس جگہ الرحمن اور الرحیم دونوں اسبات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں اللہ کے لیے ثابت ہیں جو ہر قسم کے جمال اور جلال کا جامع ہے۔ثم تكرر خلاصة الكلام فى تفسير بسم الله الرحمن الرحيم۔فاعلم ان اسم الله اسم ا جامد لا يعلم معناه الا الخبير العليم۔وقد اخبر عز اسمه بحقيقة هذا الاسم في هذه الآية۔واشار الى انه ذات متصفة بالرحمانية والرحيمية۔اى متصفة برحمة الامتنان ورحمة مقيدة بالحالة الايمانية۔و هاتان رحمتان كماء اصفى وغذاء احلى من منبع الربوبية۔وكل ما هو دونهما من صفات فهو كشعب لهذه الصفات۔اعجاز مسیح۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 116-115) ( ترجمہ ) : - اب ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان کرتے ہیں۔پس واضح ہو کہ اللہ کا لفظ اسم جامد ہے اور اس کے معنے سوائے خدائے خبیر و علیم کے اور کوئی نہیں جانتا۔اور اللہ تعالیٰ عزاسمہ نے اس آیت میں اس اسم کی حقیقت بتائی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اللہ اس ذات کا نام ہے جو رحمانیت اور رحیمیت کی صفات سے متصف ہے یعنی ( بلا استحقاق ) احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت ہر دور حمتوں سے ( وہ ذات ) متصف ہے۔یہ دونوں رحمتیں صاف پانی اور شیر میں غذا کی مانند ہیں جور بوبیت کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ان دونوں کے علاوہ باقی تمام صفات ان دوصفات کے لیے بمنزلہ شاخوں کے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔اَلرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔مَلِكِ يَوْمِ الدِّينَ۔الحمد الله - تمام محامد اس ذات معبود برحق مجمع جمیع صفات کا ملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔۔۔قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کا ملہ پر مشتمل ہے پس خلاصه مطلب الحمد لله کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے