حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 571
571 مخصوص ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں اور نیز جس قد ر حامد صحیحہ اور کمالات تامہ کوعقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے۔مگر اللہ تعالیٰ بدقسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے۔جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بکلی منزہ ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 436-435 حاشیہ نمبر 11) اللہ جس کا ترجمہ ہے وہ معبود۔یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الورا اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عابدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جو موت ہے رجوع کر رہی ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 268 ) تعریف اسم اللہ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَابَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَؤُدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔(البقره:256) اللہ جو جامع صفات کا ملہ اور مستحق عبادت ہے اس کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ جی بالذات اور قائم بالذات ہے بجز اس کے کوئی چیز جی بالذات اور قائم بالذات نہیں یعنی اس کے بغیر کسی چیز میں یہ صفت پائی نہیں جاتی کہ بغیر کسی علت موجدہ کے آپ ہی موجود اور قائم رہ سکے یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم اور موزون سے بنایا گیا ہے علت موجبہ ہو سکے۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 514-511 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) الم۔اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔(ال عمران : 2تا4) قرآنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اس کا وجود ہر یک چیز کے لیے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہر یک چیز کا عدم ہوگا۔غرض ہر یک وجود کے بقا اور قیام کے لیے اس کی معیت لازم ہے۔ست بچن - ر- خ- جلد 10 صفحہ 299)