حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 569 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 569

569 یہ تمام آیات ( آیت زیر تفسیر اور بعض اور جن کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے۔ناقل ) ان لوگوں کے متعلق ہیں جنہوں نے رسول کے وجود پر اطلاع پائی اور رسول کی دعوت ان کو پہنچ گئی اور جولوگ رسول کے وجود سے بالکل بے خبر رہے اور نہ ان کو دعوت پہنچی ان کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ان کے حالات کا علم خدا کو ہے ان سے وہ وہ معاملہ کرے گا جو اس کے رحم اور انصاف کا مقتضاء ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 132 حاشیہ ) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور ان کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔ایمان با اللہ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 545) لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلِئِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ وَ اتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَحْمَى وَالْمَسْكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَ السَّائِلِينَ وَ فِى الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَآتَى الزَّكَوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَهَدُوا وَ الصَّبِرِينَ فِي الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَ حِيْنَ الْبَأْسِ أُولئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔(البقرة : 178) بسم الله الرحمن الرحيم اسماء باری تعالیٰ اعلم وهب لك الله علم اسماءه و هداك الى طرق مرضاته و سبل رضائه ان الاسم مشتق من الوسم الذى هو اثر الكى فى اللسان العربية يقال اتسم الرجل اذا جعل لنفسه اعجاز اسیح - ر- خ- جلد 18 صفحہ 90-89) سمةً يعرف بها و يميز بها عندالعامة۔( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے اسماء کا علم عطا فرمائے اور اپنی رضاء اور خوشنودی کی راہوں اور طریقوں پر چلائے۔جان لیں کہ اسم کا لفظ ( جو بسم اللہ میں آیا ہے ) وسم سے مشتق ہے اور وسم عربی زبان میں داغ دینے کے نشان کو کہتے ہیں۔چنانچہ لغت عرب میں اتسم الرجل اس وقت کہتے ہیں جب کوئی شخص اپنے لیے کوئی ایسی علامت مقرر کرلے جس سے وہ پہچانا جا سکے اور عوام الناس اسے دوسرے اشخاص سے الگ سمجھ سکیں۔اسم الله و انت تعلم ان اسم الشيء عند العامة مايعرف به ذالک الشیء۔واما عندالخواص واهل المعرفة فالاسم الاصل الحقيقة الفيء۔بل لا شك ان الاسماء المنسوبة الى المسميات من الحضرة الاحدية قد نزلت منها منزلة الصور النوعية وصارت كوكنات لطيور المعاني والعلوم الحكمية وكذالك اسم الله والرحمن والرحيم في هذه الآية المباركة۔فان كل واحد منها يدل على خصائصه وهويته المكتومة۔والله اسم للذات الالهية الجامعة لجميع انواع الكمال۔اعجاز امسیح۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 92-91)