حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 545
545 وَكُلُّ إِنْسَانِ الزَمْنَهُ طَبَرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كتبايلُقَهُ مَنْشُورًا۔(بنی اسرائیل : 14) یہ قرآنی اصول ہے کہ ہر ایک عمل پوشیدہ طور پر اپنے نقوش جماتارہتا ہے۔جس طور کا انسان کا فعل ہوتا ہے اسی کے مناسب حال ایک خدا تعالیٰ کا فعل صادر ہوتا ہے اور وہ فعل اس گناہ کو یا اس کی نیکی کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کے نقوش دل پر منہ پر آنکھوں پر ہاتھوں پر پیروں پر لکھے جاتے ہیں اور یہی پوشیدہ طور پر ایک اعمال نامہ ہے جو دوسری زندگی میں کھلے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 401) عذاب کیوں آتا ہے نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (الهمزة: 8-7) یا اگر مثلاً ایک انسان اپنی زبان کو کاٹ ڈالے تو خدا تعالیٰ قوت گویائی اس سے چھین لیتا ہے۔یہ سہ خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جو انسان کے فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ایسا ہی عذاب دینا خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو انسان کے اپنے ہی فعل سے پیدا ہوتا اور اسی میں جوش مارتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ یعنے خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑکا تا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اٹھتا ہے۔یعنی جڑ اس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔پس جبکہ عذاب کا اصل تختم اپنے وجود کی ہی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔(کتاب البریہ - ر- خ - جلد 13 صفحہ 82) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَ عَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔(البقرة:8) ہمار کے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ہر ایک ہمارا نیک یا بدکام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔اور قرآن شریف میں جو خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِم آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور مونہہ پر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ الصف : 6) یعنی جبکہ وہ حق سے پھر گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کا یا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفته رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔(کتاب البریہ۔ر۔خ۔جلد 13 صفحہ 48-47)