حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 546
546 عذاب انبیاء کے انکار سے آتا ہے مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا۔(بنی اسرائیل: 16) عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانے میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گذشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا۔اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا (حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 165-164) ہے اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا۔تجلیات الہیہ۔رخ۔جلد 20 صفحہ 400) اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے جیسا کہ خدا نے فرمایا۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً۔اور توبہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں ان پر رحم کیا جائے گا۔(حقیقۃ الوحی۔رخ - جلد 22 صفحہ 268) وَ قَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔(نوح: 27) جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے وہ دعا کرتا ہے پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے۔پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا۔وَ قَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قبال کے ذریعہ مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔خود ہماری نسبت دیکھو جب یہ شجھ چپک جاری ہوا تو اسکا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا مگر جب ارادہ الہی اس کی تباہی کے متعلق ہوا تو ہماری توجہ اس طرف بے اختیار ہوگئی اور پھر تم دیکھتے ہو کہ رسالہ ابھی اچھی طرح شائع بھی نہ ہونے پایا کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 199)