حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 544
544 وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے مسلمین کو اطلاع بھی دیتا رہتا ہے پھر جب شخص مجرم تو به اور استغفار اور تفرع اور زاری سے اس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر مجوب ومستور کر دیتا ہے یہی معنے ہیں اس آیت کے کہ عذابی أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۔يعنی رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي۔- اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو تمام شریعتیں باطل ہو جاتی ہیں۔تحفہ غزنویہ۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 537) فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ۔وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔(الزلزال:8) یعنی جو شخص ایک ذرہ بھر بھی نیک کام کرے وہ بھی ضائع نہیں ہوگا اور ضرور اس کا اجر پائے گا۔انوار الاسلام - ر - خ - جلد 9 صفحہ 56) خدا تعالیٰ سے جب انسان جدائی لے کر جاتا ہے تو اس کے تمثلات دوزخ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام میں کذب نہیں ہے۔مَنْ يَّاتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا۔( طه :75) سچ فرمایا ہے جب انسان عذاب اور درد میں مبتلا ہے اگر وہ زندہ ہے لیکن مردوں سے بھی بدتر ہے وہ زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ صلاح اور تقوی کے بدوں نہیں مل سکتی۔جس کو تپ چڑھی ہوئی ہے اسے کیونکر زندہ کہ سکتے ہیں۔سخت تپ میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات ہے یا دن ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 319) ضروری اور واقعی طور پر یہ سزائیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک فل ہے اصل سزاؤں کا اور ان کی غرض ہے عبرت۔دوسرے عالم کے مقاصد اور ہیں اور وہ بالاتر اور بالاتر ہیں۔وہاں تو مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ کا انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیھوں کی سزا بھگتنی پڑے گی۔دنیا اور آخرت کی سزاؤں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ دنیا کی سزائیں امن قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیں اور آخرت کی سزائیں افعال انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں۔وہاں اسے ضرور سزا منی ٹھہری کیونکہ اس نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بد وں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 19-18 ) جزا سزا کا فلسفہ وَ مَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ۔۔۔(الشورى: 31) انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کر سکتا۔قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں۔جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزادیتا ہے ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہیئے اور اگر وہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تا غافل انسان متنبہ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ۔( ترجمہ ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بداعمالی کے سبب سے ہے اور خدا بہت سے گناہ بخش دیتا ہے اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔(چشمہ معرفت۔۔خ۔جلد 23 صفحہ 24-23)