حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 527
527 پانچویں فصل تعریف معجزه معجزات وَ لَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا ، يجِبَالُ اَوِبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ ، وَالنَّا لَهُ الْحَدِيدَ۔(سبا: 11)۔يجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّير اے پہاڑ و اوراے پرندو میرے اس بندہ کے ساتھ وجد اور رقت سے میری (حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 93) یادکرو۔تدابیر مشہودہ سے الگ ہو کر جو فعل ہوتا ہے اس میں اعجازی رنگ ہوتا ہے۔معجزات جن باتوں میں صادر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افعال ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان میں شریک ہوتے ہیں مگر نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے اور یہی بات یہاں سلیمان کے قصہ میں ہے۔آنحضرت صلی علیہ وسلم سے پہلے کیا لوگ قصائد نہ کہتے تھے؟ کہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام فصیح و بلیغ پیش کیا تو وہ جوڑ توڑ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وحی سے تھا اس لئے معجزہ تھا کہ درمیان اسباب عادیہ نہ تھے۔آپ نے کوئی تعلیم نہ پائی تھی اور بدوں کوشش کے وہ کلام آپ نے پیش کیا۔غرض اسی طرح پر لوہا نرم کرنے کا معجزہ ہے کہ اس میں اسباب عادیہ نہ تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اور معنی بھی ہوں۔مشکلات صعب سے بھی مرادلو ہا ہوتا ہے۔وہ حضرت سلیمان پر آسان ہو گئیں مگر اصل اعجاز کا کسی حال میں ہم انکار نہیں کرتے ورنہ اگر خدا تعالیٰ کی ان قدرتوں پر ایمان نہ ہو تو پھر خدا کو کیا مانا ہم اس کو خارق عادت نہیں مان سکتے جو قرآن شریف کے بیان کردہ قانون قدرت کے خلاف ہو۔معجزات کے تین اقسام فرمایا:۔معجزات تین اقسام کے ہوتے ہیں:۔(1) دعائیہ (۲) ارہا میہ (۳) قوت قدسیه ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 448) ارہا صیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا۔قوت قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں انگلیاں رکھدیں اور لوگ پانی پیتے رہے یا ایک تلخ کوئیں میں اپنا لب گراد یا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا مسیح کے معجزات میں بھی یہ رنگ پایا جاتا ہے۔خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔مسیح کے معجزات کے متعلق جو ہم نے عمل التقرب کا ذکر کیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ جو قو تیں اللہ تعالیٰ نے خلقی طور پر انسان کی فطرت میں ودیعت کی ہیں وہ توجہ سے سرسبز ہوتی ہیں۔رہی یہ بات کہ مسیح کے معجزات کو مکروہ کہا ہے۔یہ ایسی بات ہے کہ بعض اوقات ایک امر جائز ہوتا ہے اور دوسرے وقت نہیں۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 308)