حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 526
526 دل که باشد گرفته اوہام ہمچو میخ کہ زو یا بداز دے سکیت و آرام دل جو وہم میں گرفتار ہواسی سے تسکین اور آرام پاتا ہے۔بست فولادی! در دل آید فزایدت شادی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں گڑ جاتا ہے اور خوشی کو بڑھاتا ہے۔رہد عادت فساد و شقاق چاره زہر نفس چوں تریاق ان کی برکت سے فساد اور جھگڑے کی عادت دور ہوتی ہے اور وہ تریاق کی طرح نفس کے زہر کا علاج ہے۔در شین فاری مترجم صفحه 329 ( نزول مسیح۔ر-خ- جلد 18 صفحہ 476) الہام اور خدا کی فعلی شہادت لیکن وہ لوگ جو خدا کے نزدیک ملہم اور مکلم کہلاتے ہیں اور مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف رکھتے ہیں اور دعوت خلق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں ان کی تائید میں خدا تعالیٰ کے نشان بارش کی طرح برستے ہیں اور دنیا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور فعل الہی اپنی کثرت کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ جو کلام وہ پیش کرتے ہیں وہ کلام الہی ہے اگر الہام کا دعوی کرنے والے اس علامت کو مدنظر رکھتے تو وہ اس فتنہ سے بچ جاتے۔(حقیقۃ الوحی - ر- خ - جلد 22 صفحہ 538) محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں۔دیکھو جب کفار کی طرف سے اعتراض ہوا لَسْتَ مُرُسَلًا تو جواب دیا گیا كَفَی بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ (الرعد: 44) یعنی عنقریب خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کر دے گی۔پس الہام کے ساتھ فعلی شہادت بھی چاہیئے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 204 ) میرا مذ ہب تو یہ ہے کہ جب تک درخشاں نشان اس کے ساتھ بار بار نہ لگائے جاویں تب تک الہامات کا نام لینا بھی سخت گناہ اور حرام ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ قرآن مجید اور میرے الہامات کے خلاف تو ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 141 حاشیہ ) نہیں۔اگر ہے تو یقینا خدا کا نہیں بلکہ شیطانی القاء ہے۔کثرت مکالمه مخاطبه خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہمکلام ہوتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندے میں ہمکلامی واقع ہوا اور جب یہ کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خدائے تعالی کی طرف سے سنے جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے تو وہ خدا کا کلام ہے اور ایسا بندہ خدا کی جناب میں عزیز ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر - خ - جلد 10 صفحہ 440-439)