حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 528 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 528

528 معجزات اور اسباب ينَارُ كُونِي بَرْدًا وَّ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء: 70) یہ سچی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ خلق اسباب کرتا ہے خواہ ہم کو ان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہو۔الغرض اسباب ضرور ہوتے ہیں۔اس لئے شق القمر ينَارُ كُونِي بَرْدًا وَّ سَلَمًا (الانبیاء: 70) کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں۔بلکہ وہ بھی بعض مخفی در مخفی اسباب کے نتائج ہیں اور بچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں۔کوتاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اسے نہیں سمجھ سکتے۔مجھے تو یہ حیرت آتی ہے کہ جس حال میں یہ ایک امر مسلم ہے کہ عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتا تو نادان فلاسفر کیوں ان اسباب کی بے علمی پر جو ان معجزات کا موجب ہیں اصل معجزات کی نفی کی جرات کرتا ہے۔ہاں ہمارا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے کسی بندے کو ان اسباب مخفیہ پر مطلع کر دے لیکن یہ کوئی لا زم بات نہیں ہے۔دیکھو انسان اپنے لئے جب گھر بناتا ہے تو جہاں اور سب آسائش کے سامانوں کا خیال رکھتا ہے سب سے پہلے اس امر کو بھی ملحوظ رکھ لیتا ہے کہ اندر جانے اور باہر نکلنے کے لئے بھی کوئی دروازہ بنالے اور اگر زیادہ ساز وسامان ہاتھی گھوڑے گاڑیاں بھی پاس ہیں تو علی قدر مراتب ہر ایک چیز اور سامان کے نکلنے اور جانے کے واسطے دروازہ بناتا ہے نہ یہ کہ سانپ کی بانبی کی طرح ایک چھوٹا سا سوراخ۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے فعل یعنی قانون قدرت پر ایک وسیع اور پر غور نظر کرنے سے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کر کے یہ کبھی نہیں چاہا کہ وہ عبودیت سے سرکش ہو کر ربوبیت سے متعلق نہ ہو۔ربوبیت نے عبودیت کو دور کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا۔سچا فلسفہ یہی ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 72) انِى اَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ الله۔۔الاية (ال عمران: 50) فاعلم حقیقی معجزه ن باحیاء اعجازی و خلق اعجازى ولا نؤمن باحياء حقیقی و خلق حقیقی کاحیاء الله و خلق الله و لو كان كذلك لتشابه الخلق والاحياء و قال الله سبحانه فيكون طيرا باذن الله وما قال فيكون حيا باذن الله وما قال فيصير طيرا باذن الله و ان مثل طير عیسی کمثـل عـصـا مـوسـى ظهرت كحية تسعى ولكن ماتركت للدوام سيرته الاولى وكذلك قال المحققون ان طير عيسى كان يطير امام اعين الناس و اذا غاب فكان يسقط ويرجع الى سيرته الاولى فاين حصل له الحيات الحقیقی و کذلک کان حقيقة الاحياء اعنى انه مارد الى ميت قط لوازم الحياة كلها بل كان يرى جلوة من حياة الميت بتاثير روحه الطيب وكان الميت حيا مادام عيسى قائما عليه او قاعدا فاذا ذهب فعاد الميت الى حاله الاول و مات فكان هذا احياء ا اعجازيا لا حقيقيا۔( حمامتہ البشری۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 316-315)