حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 525
525 نشانیاں ہیں۔سچے الہام کی پہچان اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی (۱) اول یہ کہ الہی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگر چہ اور دلائل ابھی ظاہر نہ ہوں وہ طاقت بڑے جوش اور زور سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور مہم کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنا لیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کر دیا جائے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ کبھی نہیں کہ سکتا کہ یہ الہام شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کا کلام ہے۔(۲) دوسرے خدا کے الہام میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے (۳) تیسری وہ پُر زور آواز اور قوت سے نازل ہوتا ہے (۴) چوتھی اس میں ایک لذت ہوتی ہے (۵) اکثر اس میں سلسلہ سوال و جواب پیدا ہو جاتا ہے بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے اور پھر بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے۔خدا کا جواب پانے کے وقت بندہ پر ایک غنودگی طاری ہوتی ہے لیکن صرف غنودگی کی حالت میں کوئی کلام زبان پر جاری ہونا وحی الہی کی قطعی دلیل نہیں کیونکہ اس طرح پر شیطانی الہام بھی ہو سکتا ہے (1) چھٹی وہ الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہو جاتا ہے جن کا ملہم کو کچھ بھی علم نہیں (۷) خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخراس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مائعین پر جا پڑتا ہے۔تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آ جاتی ہیں (۸) آٹھویں سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا اور بطور حکم کے کام کرتا ہے اور قرآن شریف کے کسی بیان میں مخالف نہیں ہوتا۔(۹) بچے الہام کی پیشگوئی فی حد ذاتہ کچی ہوتی ہے گو اس کے سمجھنے میں لوگوں کو دھوکا ہو (۱۰) دسویں سچا الہام تقوی کو بڑھاتا اور اخلاقی قوتوں کو زیادہ کرتا اور دنیا سے دل پر داشتہ کرتا اور معاصی سے متنفر کر دیتا ہے (۱) سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو بچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہو جاتے ہیں اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات بن جاتا ہے۔( نزول اسیح - ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 493-492) پیچ دانی کلام رحمان چیست دانکہ آں خور بیافت آں مہ کیست تجھے خبر بھی ہے؟ کہ رحمان کا کلام کیا چیز ہے اور وہ چاند کونسا ہے جس کے پاس کلام رحمان کا سورج ہے۔آں کلامش که نور با دارد شک وریب از قلوب بردارد اس کا وہ کلام جو اپنے اندرا نوار رکھتا ہے دلوں سے شک وشبہ کو دور کر دیتا ہے۔نور در ذات خویش و نور دهد رگ ہر شک و ہر گماں ببرد وہ خود بھی نور ہے اور دوسروں کو بھی نور عطا کرتا ہے اور ہر شک اور گمان کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔