حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 503
503 موجودہ حالت میں مصلح کی ضرورت ایک دوست نے اپنا خواب بیان کیا جس میں یہ آیت بھی تھی۔وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔(الطلاق: 3) ایک عالمگیر عذاب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے نجات کا ذریعہ صرف تقویٰ ہی ہے۔دیکھو یہ قحط جو بڑھتا جاتا ہے یہ بھی شامت اعمال ہی ہے۔جو اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے حضور توبہ کریں مگر تو بہ کے آثار نظر نہیں آتے۔یہ لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں۔نشان پر نشان دیکھتے ہیں اور پھر نہیں مانتے۔کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ کیوں تکذیب و تکفیر پر کمر بستہ ہیں۔نہ قرآن مجید ان کے ساتھ نہ احادیث ان کے ساتھ۔موجودہ حالات پکار پکار کر ایک مصلح کی ضرورت جتا رہی ہیں۔غرض عقلی نفلی دو نو طریق سے یہی جھوٹے ثابت ہورہے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔بار بار جہاد کو پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب کوئی گورنمنٹ مذہب کیلئے نہیں لڑتی تو وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا وہ کس لیے تلوار سے جہاد کرتا۔اب تو زمانہ دلائل سے جہاد کرنے کا ہے جو ہو رہا ہے۔یہ لوگ عجیب قسم کی تاریکی میں ہیں کہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔جوان کے رہبر بنے ہوئے ہیں وہ عجیب قسم کے مکروں سے کام لے رہے ہیں۔دنیا ہی ان کا مقصود ہے۔اسلام میں ایک بیج بویا گیا تھا بجائے اس کے کہ اس کی آبیاری کرتے اس کو اُجاڑنے کے درپے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 430) اسلام میں حقیقی جہاد نفسوں کو پاک کرنے کا جہاد دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو۔جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئیگا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دیگا۔سو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں۔دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور درد مندوں کے ہمدرد بنیں۔زمیں پر صلح پھیلا دیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا اور اس سے تعجب مت کریں کہ ایسا کیونکر ہوگا۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے بغیر توسط معمولی اسباب کے جسمانی ضرورتوں کے لئے حال کی نئی ایجادوں میں زمین کے عناصر اور زمین کی تمام چیزوں سے کام لیا ہے اور ریل گاڑیوں کو گھوڑوں سے بھی بہت زیادہ دوڑا کر دکھلا دیا ہے ایسا ہی اب وہ روحانی ضرورتوں کے لئے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے آسمان کے فرشتوں سے کام لے گا۔بڑے بڑے آسمانی نشان ظاہر ہونگے اور بہت سی چمکیں پیدا ہونگی جن سے بہت سی آنکھیں کھل جائیں گی۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔۔۔خ۔جلد 17 صفحہ 15)