حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 504 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 504

504 معجزات اور خدائی چمک دکھانے کا جہاد ایسا ہی ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے جو مسیح موعود کے بارے میں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے که مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔اَخْرَجُتُ عِبَادًا لِيْ لَا يَدَانِ لِقِتَالِهِمْ لِأَحَدٍ فَأَخْرِزْ عِبَادِى إِلَى الطُّورِ۔یعنی اے آخری صحیح میں نے اپنے ایک بندے ایسی طاقتور زمین پر ظاہر کئے ہیں (یعنی یورپ کی قومیں ) کہ کسی کو ان کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔پس تو ان سے جنگ نہ کر بلکہ میرے بندوں کو طور کی پناہ میں لے آ۔یعنی تجلیات آسمانی اور روحانی نشانوں کے ذریعہ سے ان بندوں کو ہدایت دے۔سو میں دیکھتا ہوں کہ یہی حکم مجھے ہوا ہے۔اب واضح ہو کہ ان بندوں سے مراد یورپ کی طاقتیں ہیں جو تمام دنیا میں پھیلتی جاتی ہیں اور طور سے مراد تجلیات اللہ کا مقام ہے جس میں انوار و برکات اور عظیم الشان منجزات اور ہیبت ناک آیات صادر ہوتی ہیں اور خلاصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو وہ ان زبر دست طاقتوں سے جنگ نہیں کرے گا بلکہ دین اسلام کو زمین پر پھیلانے کے لئے وہی چمکتے ہوئے نو ر اس پر ظاہر ہوں گے جو موسیٰ نبی پر کوہ طور میں ظاہر ہوئے تھے پس طور سے مراد چمکدار تجلیات الہیہ ہیں جو معجزات اور کرامات اور خرق عادت کے طور پر ظہور میں آ رہے ہیں اور آئیں گے اور دنیا دیکھے گی کہ وہ چمک کس طرح سطح دنیا پر محیط ہو جائے گی خدا بہت پوشیدہ اور مخی د مخفی ہے مگر جس طرح موسیٰ کے زمانہ میں ایک خوفناک تجلی اس نے ظاہر کی تھی یہاں تک کہ اس تجلی کی موسیٰ بھی برداشت نہ کر سکا اور غش کھا کر گر گیا اس زمانہ میں بھی وہ فوق العادت الہی چمک اپنا چہرہ دکھائے گی جس سے طالب حق تسلی پائیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے پچیس برس پہلے مجھے مخاطب کر کے ایک عظیم الشان پیشگوئی کی ہے جو میری کتاب براھین احمدیہ میں درج ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔میں اپنی چہکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ پس اس الہامی عبارت میں خدا نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا یہ وہی چمکا ر ہے جو کوہ طور کی (پیغام صلح -ر خ- جلد 23 صفحہ 398-397) چکار سے مشابہت رکھتی ہے۔اسلام کی برکات اور انوار سے جہاد علاوہ بریں اگر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی ہوتی کہ ایسے زمانہ میں اسلام کی ترقی جنگ سے وابستہ ہوتی تو ہر قسم کے ہتھیار مسلمانوں کو دئیے جاتے حالانکہ جس قدر ایجاد میں آلات حربیہ کے متعلق یورپ میں ہو رہی ہیں کسی جگہ نہیں ہوتی ہورہی ہیں۔جس سے اللہ تعالیٰ کی مصلحت کا صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ لڑائی کا زمانہ نہیں ہے۔اور کبھی بھی کوئی دین اور مذہب لڑائی سے نہیں پھیل سکتا۔پہلے بھی اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لیے تلوار نہیں اٹھائی گئی۔اسلام اپنے برکات انوار اور تاثرات کے ذریعہ پھیلا ہے اور ہمیشہ اسی طرح پھیلے گا۔پس یہ نہایت ہی غلط اور مکر وہ خیال ہے کہ مسیح کے وقت جنگ ہوگی اور نہ مسیح کو اس کی حاجت۔وہ قلم سے کام لے گا اور اسلام کی حقانیت اور صداقت کو پُر زور دلائل اور تاثیرات کے ساتھ ثابت کر کے دکھائے گا اور دوسرے ادیان پر اس کو غالب کرے گا اور یہ ہورہا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 447)