حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 502
502 چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو کیوں بھولتے ہو تم يضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا جب آئیگا تو صلح کو وہ ساتھ لائیگا جنگوں کے سلسلے کو وہ یکسر مٹائیگا یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائیگا اک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے القصہ یہ میسج کے آنے کا ہے نشان کر دیگا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اسکا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقتِ مسیح اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے ہے اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا (تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 80-77) یہ زمانہ تلوار سے جہاد کا نہیں ہے مسیح موعود کے لئے ابتداء سے یہی مقدر ہے کہ پہلے تو وہ تمہاری رنگ میں ظاہر ہوگا اور جہاں تک اسکی نظر کام کرتی ہے اس کے دم سے لوگ مریں گے یعنی وہ زمانہ جہاد اور تلوار سے لڑنے کا زمانہ نہیں ہو گا صرف مسیح موعود کی روحانی توجہ تلوار کا کام دکھلائیگی اور قہری نشان آسمان ہے نازل ہونگے جیسے طاعون اور زلزلے وغیرہ آفات۔تب اس کے بعد خدا کا مسیح نوع انسان کو رحم کی نظر سے دیکھے گا اور آسمان سے رحم کے آثار ظاہر ہونگے اور عمروں میں برکت دی جائیگی اور زمین میں سے رزق کا سامان بکثرت پیدا ہوگا۔منہ ( تجلیات الہیہ۔رخ۔جلد 20 صفحہ 399 حاشیہ )