حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 496 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 496

496 قرآن شریف میں بڑی بسط اور تفصیل سے اس امر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غور کرنے والا اور بے تعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔قرآن شریف میں صاف طور سے اس امر کا ذکر آ گیا ہے وَهُمُ بَدَءُ وَكُمُ أَوَّلَ مَرَّةٍ یعنی ہر ایک شرارت اور فساد کی ابتداء پہلے کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔۔۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 503-502) ہمارے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں کے لئے سبقت نہیں کی تھی بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی تھی۔خون کئے۔ایذائیں دیں۔تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دئے۔آخر جب صحابہ کرام سخت مظلوم ہو گئے تب اللہ تعالیٰ نے بدلہ لینے کی اجازت دی جیسے فرمایا۔اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج 40) وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتَلُونَكُمُ۔(البقرة: 191) اُس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے۔خون کرتے تھے۔۔اور ناحق کی ایذاد ہی اور خون ریزی پر کمر باندھے ہوئے تھے۔خدا تعالیٰ) نے فیصلہ کر دیا کہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ عین حق اور انصاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے انہوں نے بڑی بڑی کوششیں کیں۔طرح طرح کے منصوبے کئے یہاں تک کہ ہجرت کرنی پڑی مگر پھر بھی انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مد ینہ تک تعاقب کیا اور خون کرنے کے درپے ہوئے۔غرض جب ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مدت تک صبر کیا اور مدت تک تکلیف اٹھائی تب خدا (تعالی) نے فیصلہ دیا کہ جنہوں نے تم لوگوں پر ظلم کئے اور تکلیفیں دیں ان کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور پھر بھی یہ فرماہی دیا کہ اگر وہ صلح پر آمادہ ہو دیں تو تم صلح کر لو۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یتیم غریب بیکس پیدا ہوئے تھے وہ لڑائیوں کو کب پسند کر سکتے تھے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 278-277) واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبر دست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ سیچ نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیر ومخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کیے گئے اور کئی بُرے بُرے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کر دینے کے لیے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لیے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کو روکنے کے لیے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لیے جو ان کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لیے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ إِذْ يَمُكُرُبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ۔(الانفال: 31) جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 244)