حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 497
497 قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الجزيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صَغِرُونَ (التوبة : 29) الله ان بے ایمانوں سے لڑو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے یعنی عملی طور پر فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور حرام کو حرام نہیں جانتے اور سچائی کی راہیں اختیار نہیں کرتے جو اہل کتاب میں سے ہیں جب تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے دیں اور وہ ذلیل ہوں۔دیکھو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ جو اپنی بغاوتوں کی وجہ سے حق کے روکنے والے ہیں اور ناجائز طریقوں سے حق پر حملہ کرنے والے ہیں۔ان سے لڑو اور ان سے دین کے طالبوں کو نجات دو۔اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ یہ لڑائی ابتداء بغیر ان کے کسی حملہ کے ہوئی تھی۔لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے اور جب تک آپ سلسلہ کو نہ دیکھو گے اپنے تئیں عمد آیا سہو بڑی غلطیوں میں ڈالو گے۔سلسلہ تو یہ ہے کہ اوّل کفار نے ہمارے نبی صلعم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا اور پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی تو پہلا حکم جولڑائی کے لیے نازل ہوا وہ یہ تھا۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرِنِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ الحج آیت 41-40) اہل کتاب دعوت حق کے مزاحم ہوئے اور مشرکوں کو انہوں نے مددیں کیں اور ان کے ساتھ مل کر اسلام کو نابود کرنا چاہا جیسا کہ مفصل ذکر اس کا قرآن شریف میں موجود ہے تو پھر بجرالڑ نے اور دفع حملہ کے اور کیا تدبیر تھی مگر پھر بھی ان کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا۔حَتَّى يُعْطُوا الجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمُ صغِرُونَ یعنی اس وقت تک ان سے لڑو۔جب تک یہ جزیہ ذلت کے ساتھ دیدیں اور صاف طور پر فر ما دیا یعنی جہاد میں یعنی لڑنے میں اسلام سے ابتداء نہیں ہوئی۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 256-254) جہاد کا حکم مختص الزمان والوقت تھا أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِير (الحج :40) وَإِنَّ خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شتر کا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ ان برگزیدہ راست بازوں نے ایسا ہی کیا۔ان کے خونوں سے گوچے سُرخ ہو گئے پر انہوں نے دم نہ مارا۔وہ قربانیوں کی طرح ذبح کئے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔خد کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں بارہا پتھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور