حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 495
495 یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانہ کے نیم ملا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرا مسلمان کرنے کے لیے تلوار اٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں۔مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِی الدین۔یعنی دین میں جبر نہیں چاہئے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لیے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے۔اور یا اس لیے تھیں کہ امن قائم کیا جائے اور جولوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 158 ) اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جبر وتشد دکسی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک کو پوری مذہبی آزادی دی گئی ہے۔اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کیلیے اور نہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے نہ کوئی نماز روزے اذان حج اور ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے تو پھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے؟ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 503) اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اُٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل کرنے کے لئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے گئے اور تلوار کی لڑائیوں میں سب سے بڑھ کر تو ریت کی تعلیم ہے جس کی رو سے بے شمار عورتیں اور بچے بھی قتل کئے گئے۔جس خدا کی نظر میں وہ بے رحمی اور سختی کی لڑائیاں بُری نہیں تھیں بلکہ اس کے حکم سے تھیں تو پھر نہایت بے انصافی ہوگی کہ وہی خدا اسلام کی ان لڑائیوں سے ناراض ہو جو مظلوم ہونے کی حالت میں یا امن قائم کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرنی پڑی تھیں۔حجتہ الاسلام۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 47-46) جنگ کی ابتدا کافروں کی تھی اَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّة اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ اَحَقُّ أَنْ تَخْشَرُهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔(التوبة: 13) یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور باوجود بار بار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ اور مقابلے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان و مال کی غرض سے کیے تھے اور کوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اور ابتداء پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوئی ہو۔بلکہ بعض قابل نفرین حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمداً ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا مثلاً کفار میں ایک سخت قابل نفرت رسم تھی جو کہ وہ مسلمان مردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعا روک دیا۔