حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 486 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 486

486 اور نیز ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالے قرآن شریف میں پیش دستی کر کے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قرار دیتا ہے بلکہ مومنوں کو جا بجا صبر کا حکم دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اِدْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔(حم السجده: 35)۔یعنی تیرا دشمن جو تجھ سے بدی کرتا ہے اس کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کر اگر تو نے ایسا کیا تو وہ تیرا ایسا دوست ہو جائے گا کہ گویا رشتہ دار بھی ہے اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ۔(ال عمران : 135) یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگس کے ساتھ عفو اور درگذر سے پیش آتے ہیں اور اگر چہ انجیل میں بھی عفو اور درگذر کی تعلیم ہے جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے دوسروں سے حضرت عیسی نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں۔مگر قرآن شریف نے یہ فرمایا۔قُل يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔(الاعراف: 159)۔یعنی اے تمام انسانو! جوزمین پر رہتے ہو میں سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں نہ کسی خاص قوم کی طرف اور سب کی ہمدردی میرا مقصد ہے۔(پیغام صلح - ر-خ- 23 صفحہ 395) اور پھر ایک جگہ فرمایا ہے۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا۔(المائده: 33) یعنی جس شخص نے ایسے شخص کو قتل کیا کہ اس نے کوئی ناحق کا خون نہیں کیا تھا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو نہ بغاوت کے طور پر امین عامہ میں خلل ڈالتا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلا تا تھا تو اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔یعنی بے وجہ ایک انسان کو قتل کر دینا خدا کے نزدیک ایسا ہے کہ گویا تمام نبی آدم کو ہلاک کر دیا۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ بے وجہ کسی انسان کا خون کرنا کس قدرا سلام میں جرم کبیر ہے۔(پیغام صلح۔رخ- جلد 23 صفحہ 394) اسلام میں جبر و اکراہ نہیں ہے لَا إِكْرَاهَ فِى الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَ اللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔(البقرة : 257) ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے۔کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ اور جیسا کہ فرماتا ہے اَفَانتَ تُكْرِهُ النَّاسَ (یونس : 100) ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 45) یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہو گیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے تعجب کہ باوجود یکہ قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرنا چاہیئے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہو رہے ہیں ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔چشمہ معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 233-232)