حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 487 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 487

487 میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة : 257)۔یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا۔اور جبر کے کون سے سامان تھے۔اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کیے جاتے ہیں ان کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں۔اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دیدیں۔اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لیے بھیڑوں بکریوں کی طرح سر کٹا دیں۔اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کر دیں۔اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لیے ایسے عاشق ہوں۔کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں۔اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں۔اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں۔جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ان کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہو جائیں۔اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا الہ الا اللہ کی آواز پہنچا ہیں۔تم ایمانا کہو کہ کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کیسے جاتے ہیں جن کا دل کا فر اور زبان مومن ہوتی ہے۔نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں۔اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔(پیغام صلح - ر- خ- جلد 23 صفحہ 469-468) مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں تمہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑ کیا تھی۔اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی۔صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتداء جنگ کریں۔لڑائی کا سبب کیا تھا؟ اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلِمُوا۔خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب تلوار کا وقت ہے تم زبر دستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو بلکہ یہ کہا کہ تم مظلوم ہواب مقابلہ کرو۔مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 653-652) وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لیے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔۔۔انگلستان اور فرانس اور دیگر ممالک یورپ میں یہ الزام بڑی سختی سے اسلام پر لگایا جاتا ہے کہ وہ جبر کے ساتھ پھیلا یا گیا ہے مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ مذہب جو فتح پا کر بھی گرجے نہ گرانے کا حکم دیتا ہے کیا وہ جبر کر سکتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ ان ملانوں نے جو اسلام کے نادان دوست ہیں۔یہ فساد ڈالا ہے۔انہوں نے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھا نہیں اور اپنے خیالی عقائد کی بنا پر دوسروں کو اعتراض کا موقعہ دیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 130- 129 )