حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 485 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 485

485 میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بارز دوکوب کر کے موت کے قریب کر دیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہو گئے اور آخر کار کافروں نے یہ منصوبہ سوچا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اس مذہب کا فیصلہ ہی کر دیں۔تب اس نیت سے انہوں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کوحکم دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تو اس شہر سے نکل جاؤ۔تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابوبکر تھا نکل آئے اور خدا کا یہ مجزہ تھا کہ باوجود یکہ صد ہا لوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آ گئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا۔تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا مگر پھر بھی کفار نے اسی قدر پر صبر نہ کیا اور تعاقب کر کے چاہا کہ بہر حال قتل کر دیں لیکن خدا نے اپنے نبی کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور آنجناب پوشیدہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف چلے آئے اور پھر بھی کفار اس تدبیر میں لگے رہے کہ مسلمانوں کو بکلی نیست و نابود کر دیں اور اگر خدا تعالے کی حمایت اور نصرت نہ ہوتی تو ان دنوں میں اسلام کا قلع قمع کرنا نہایت سہل تھا کیونکہ دشمن تو کئی لاکھ آدمی تھا مگر مکہ سے ہجرت کرنے کے وقت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے رفیق ستر سے زیادہ نہ تھے اور وہ بھی متفرق ملکوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔پس اس حالت میں ہر ایک سمجھ سکتا ہے جبر کرنے کی کونسی صورت تھی غرض جب کافروں کا ظلم نہایت درجہ تک پہنچ گیا اور وہ کسی طرح آزار دہی سے باز نہ آئے اور انہوں نے اس بات پر مصم ارادہ کر لیا کہ تلوار کے ساتھ مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفاعی جنگ کے لئے اجازت فرمائی یعنی اس طرح کی جنگ جس کا مقصد صرف حفاظت خود اختیاری اور کفار کا حملہ دفع کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ آیت یہ ہے۔اِنَّ اللهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ۔أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ - (الحج: 39:40) ( ترجمہ ) خدا کا ارادہ ہے کہ کفار کی بدی اور ظلم کو مومنوں سے دفع کرے یعنی مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دے تحقیقاً خدا خیانت پیشہ ناشکر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔خدا ان مومنوں کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے جن پر کا فرقتل کرنے کے لئے چڑھ چڑھ کے آتے ہیں اور خدا حکم دیتا ہے کہ مومن بھی کافروں کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور خدا ان کی مدد پر قدرت رکھتا ہے یعنی اگر چہ تھوڑے ہیں مگر خدا ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ قرآن شریف میں وہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ کی اجازت دی گئی۔آپ خود سوچ لو کہ اس آیت سے کیا نکلتا ہے۔کیا لڑنے کے لئے خود سبقت کرنا یا مظلوم ہونے کی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے مجبوری مقابلہ کرنا ہمارے مخالف بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ آج ہمارے ہاتھ میں وہی قرآن ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شائع کیا تھا۔پس اس کے اس بیان کے مقابل پر جو کچھ برخلاف اس کے بیان کیا جائے وہ سب جھوٹ اور افترا ہے۔مسلمانوں کی قطعی اور یقینی تاریخ جس کتاب سے نکلتی ہے وہ قرآن شریف ہے۔(پیغام صلح - ر - خ - جلد 23 صفحہ 392-390)