حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 484 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 484

تیسری فصل 484 لفظ جہاد کے لفظی معافی اسلام میں جہاد جاننا چاہیئے کہ جہاد کا لفظ جہد کے لفظ سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لئے بولا گیا۔اور معلوم ہوتا کہ ہندوؤں میں جو لڑائی کو یہ کہتے ہیں۔دراصل یہ لفظ بھی جہاد کے لفظ کا ہی بگڑا ہوا ہے۔چونکہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے۔اور تمام زبانیں اسی میں سے نکلی ہیں اس لئے یہ ہ کا لفظ جو سنسکرت کی زبان میں لڑائی پر بولا جاتا ہے دراصل جہد یا جہاد ہے اور پھر جیم کو یاء کے ساتھ بدل دیا گیا اور کچھ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 3) جو تصرف کر کے تشدید کے ساتھ بولا گیا۔جہاد کے حقیقی معافی اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَ اللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔(البقره: 219) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لیے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کرو اے خواجه درد نیست وگرنه طبیب هست ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد اصفحہ 452-451 حاشیہ نمبر 11) اسلام صلح اور امن کا دین ہے أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ۔(الحج: 40) اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام میں کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر کیونکر اسلام صلح کاری کا مذہب ٹھیر سکتا ہے۔پس واضح ہو کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت ہے اور یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ دین اسلام میں جبرادین پھیلانے کے لئے حکم دیا گیا تھا۔کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک سخت دل کا فروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اٹھا ئیں اور وہ دیکھ دیکھے کہ بجز ان برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص ان دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا اور اس مدت