حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 479
479 وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُبَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّورِيَةِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ ط فَلَمَّا جَاءَ هُمُ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔(الصف:7) غضب کی بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیح کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ اب تک اس کو زندہ سمجھ کر ہزار ہا اور بیشمار فتنے اسلام کے لئے برپا کر دیں اور مسیح کو آسمان کا حی و قیوم اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا مردہ ٹھہرا وہیں حالانکہ مسیح کو گواہی قرآن کریم میں اس طرح پرلکھی ہے مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے وجہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں۔یعنی ایک اس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اس عالم کی طرف سے آیا۔آئینہ کمالات۔رخ۔جلد 5 صفحہ 42) قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ إلى حِينِ۔(الاعراف:25) تمہارے قرار کی جگہ زمین ہی رہے گی پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسی کی قرارگاہ صدہا برس سے آسمان پر ہو۔“ (براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 300 حاشیہ ) خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جس کا یہ مطلب ہے کہا اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا۔أَحْيَاءَ وَّ اَمْوَاتًا (المرسلات 27-26) ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے سمیٹنے کیلئے کافی بنایا ہے اور اس میں ایک کشش ہے جس کی وجہ سے زمین والے کسی جگہ زندگی بسر کر ہی نہیں سکتے۔اب اگر بشر آسمان پر گیا ہوا مان لیا جاوے تو نعوذ باللہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 351) فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَّلَا إِلى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ۔(يس: 51) وہ آیات جن میں لکھا ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر دنیا میں نہیں آتے ازاں جملہ یہ آیت ہے۔وَ حَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء : 96) اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ جن لوگوں پر واقعی موت وارد ہو جاتی ہے اور درحقیقت فوت ہو جاتے ہیں پھر وہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 619 حاشیہ )