حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 478
478 در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیه السلام برطبق آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فَيْهَا تَمُوتُونَ زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی سولہ آیتوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لیے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لیے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 602) و قال الله تعالى فيهـا تـحـيـون فخصص حياة الناس بالارض كما خصص موتهم : بالثرى۔اتتركون كلام الله وشهادة نبيه وتتبعون اقوالا اخر بئس للظلئين بدلا۔ايها الناس قدا عثـرنـى الله على هذا السر و علمنى مالم تعلموا و ارسلنى اليكم حكما عدلا لا كشف عليكم ما كان عليكم مستترا۔فلا تما رواولا تجادلوا ( آئینہ کمالات اسلام - ر- خ - جلد 5 صفحہ 434-433) ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فيها تحيون ( کہ تم اسی زمین میں زندہ رہو گے ) پس اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کو زمین سے مخصوص فرمایا ہے جس طرح ان کی موت کو مٹی سے خاص کر دیا۔اے لوگو کیا تم اللہ کے کلام اور اس کے نبی کی شہادت کو چھوڑ کر دوسری باتوں کی اتباع کرتے ہو۔ظالموں کا بدلہ نہایت ہی بُرا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس راز سے آگاہ فرمایا ہے اور مجھے وہ کچھ سکھایا ہے جس کا تم کو علم نہیں اور مجھے تمہاری طرف حکم وعدل بنا کر بھیجا ہے تا کو تم پر وہ باتیں کھولوں جو پہلے تم پر پوشیدہ تھیں۔پس شک نہ کرو اور نہ جھگڑا کرو۔بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں اور ادریس آسمان پر مگر ان کو معلوم نہیں کہ علمائے محققین ان کو زندہ نہیں سمجھتے کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ آج سے ایک سو برس کے گزرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا۔پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا مکذب ہے اور ادریس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑیگا کہ وہ آسمان پر ہی مریں گے کیونکہ اُن کا دوبارہ زمین پر آنا نصوص سے ثابت نہیں اور آسمان پر مرنا آیت فيها تموتون کے منافی ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 99-98 حاشیہ)