حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 480 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 480

480 إِنَّكَ مَيِّتٌ وَّ إِنَّهُمْ مَّيِّتُونَ۔و انهم ميتون۔(الزمر: (31) خدا تعالیٰ کی عادت نہیں کہ دوبارہ دنیا میں لوگوں کو بھیجا کرے ورنہ ہمیں تو عیسی کی نسبت حضرت سیدنا محمد مصطفے کے دوبارہ دنیا میں آنے کی زیادہ ضرورت تھی اور اسی میں ہماری خوشی تھی مگر خدا تعالیٰ نے انک میت کہہ کر اس امید سے محروم کر دیا۔مسلمانوں (تذکرۃ الشہادتیں۔۔۔خ۔جلد 20 صفحہ 22) تب ادبار آیا ! جب تعلیم قرآں کو بھلایا کو فلک پر سے بٹھایا ہے رسول حق کو مٹی میں سلایا یہ تو ہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے انہیں کیا کیا دکھایا عزت خدا نے پھر تمھیں اب ہے بلایا کہ سوچو خير البرايا ره خدا نے خود دکھا دی فسبحان الذى اخز الاعادي ہمیں (بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین در مشین اردو صفحہ 51) وفات مسیح حدیث رسول اللہ کے اعتبار سے بخاری کے صفحہ 640 میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو بعض آدمی یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے اور بعض کہتے تھے کہ فوت ہو گئے مگر پھر دنیا میں آئیں گے اس حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ حضرت عائشہ کے گھر گئے اور دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تب وہ چادر کا پردہ اٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف جھکے اور چوما اور کہا کہ میرے ماں باپ تیرے پر قربان مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ خدا تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔پھر لوگوں میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت ہو جانا ظاہر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے اور پھر دنیا میں نہ آنے کی تائید میں یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - یعنی محمد اس سے زیادہ نہیں کہ وہ رسول اللہ ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے گذر چکے ہیں یادر ہے کہ مِنُ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا الف لام استغراق کا ہے جو رسولوں کی جمع افراد گذشتہ پر محیط ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر دلیل ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو پھر وہ استدلال جو مدعا قرآن کریم کا ہے اس آیت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔اس آیت کے پیش کرنے سے حضرت ابوبکر صدیق نے اس بات کا ثبوت دیا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا کہ جو فوت نہ ہوا ہو۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 588) یعنی ماتوا كلهم كما استدل به الصديق الاكبر عند وفات النبي صلى الله عليه وسلم فما بقى شک بعد ذلک فی وفات المسيح و امتناع رجوعه ان كنتم بالله و اياته مؤمنين۔تحفہ بغداد۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 9)