حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 477 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 477

477 خدا وند عزوجل نے عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے عام طور پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَ فَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے ہر یک رسول جو آیا وہ گذر گیا اور انتقال کر گیا اب کیا تم اس رسول کے مرنے یا قتل ہو جانے کی وجہ سے دین اسلام چھوڑ دو گے اب دیکھو یہ آیت جو استدلالی طور پر پیش کی گئی ہے صریح دلالت کرتی ہے کہ ہر یک رسول کو موت پیش آتی رہی ہے خواہ وہ موت طبعی طور پر ہو یا قتل وغیرہ سے اور گذشتہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جو مرنے سے بچ گیا ہو سو اس جگہ ناظرین بہ بداہت سمجھ سکتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح جو گذشتہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں اب تک مرے نہیں بلکہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تو اس صورت میں مضمون اس آیت کا جو عام طور پر ہر یک گذشتہ نبی کے فوت ہونے پر دلالت کر رہا ہے صحیح نہیں ٹھہر سکتا بلکہ یہ استدلال ہی لغو اور قابل جرح ہوگا۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 265-264) ( الوصیت۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 314-313) قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فَيْهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: 26) اگر وہ (حضرت عیسی علیہ السلام ناقل ) مع جسم عنصری آسمان پر ہیں اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی ان کی قبر ہو گی ؟ لیکن آسمان پر مرنا آیت فِيْهَا تَمُوتُونَ کے برخلاف ہے۔پس اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسم عصری نہیں گئے بلکہ مرکر گئے۔اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی مخالفت کرنا اگر معصیت نہیں تو اور کیا ہے۔؟ قرآن شریف میں کئی جگہ صاف فرما دیا ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا بلکہ تمام زندگی زمین پر بسر کریں گے یہ خدا کا وعدہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفَيْهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ یعنی زمین پر ہی تم زندہ رہو گے اور زمین پر ہی تم مرو گے اور زمین میں سے ہی تم نکالے جاؤ گے۔پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کا مع جسم عصری آسمان پر جانا اس وعدہ کے برخلاف ہے اور خدا پر تخلف وعدہ جائز نہیں اور اس وعدہ میں کوئی استثناء نہیں۔(چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 228) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا کر بار بارسوال کیا کہ آپ مع جسم عصری آسمان پر چڑھ کر دکھلائیے۔ہم ابھی ایمان لائیں گے۔ان کو جواب دیا گیا۔قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا۔یعنی ان کو کہدے کہ میرا خدا عہد شکنی سے پاک ہے اور بموجب اس قول کے مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا۔کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفَيْهَا تَمُوتُونَ۔وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ۔چشم مسیجی۔رخ- جلد 20 صفحہ 387 حاشیہ )