حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 476 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 476

476 مخالفین کی حالت پر رونا آتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ اگر اس آیت انی متوفیک و رافعک الی سے ایک پاک موت کا بیان کرنا غرض نہیں تھا اور بجائے ملعون ہونے کے روحانی رفع کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا تو اس قصے کو بیان کرنے کی کونسی ضرورت تھی اور جسمانی رفع کے لیے کونسی دینی ضرورت پیش آئی تھی افسوس صاف اور سیدھی بات کو ناحق بگاڑتے ہیں۔بات تو صرف اتنی تھی کہ یہودی حضرت عیسی کو ملعون ٹھہرا کر ان کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے اب رافعک الی سے اس بات کا ظاہر کرنا مقصود تھا کہ حضرت عیسی ملعون نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف ان کا رفع ہو گیا اور توفی کے لفظ سے جس کے معنے صحیح بخاری میں مارنا کیا گیا حضرت عیسی کی موت ثابت ہوگئی۔ایام اصلح۔رخ - جلد 14 صفحہ 354 حاشیہ) فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيبٍ مُّقْتَدِرٍ۔(القمر: 56) متقی لوگ جو خدا تعالیٰ سے ڈر کر ہر یک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں۔صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے پاس۔اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالے نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدائے تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔سواگر رَافِعُكَ اِلَی کے یہی معنے ہیں جو مسیح خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلا شبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا جیسا کہ دوسری آیت یعنی ارجعِي إِلى رَبِّك (الـفـجـر : 29) جو رَافِعُكَ اِلَی کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گذشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔فَالْحَمُدُ لِلَّهِ الَّذِى اَحَقَّ الْحَقَّ وَاَبْطَلَ الْبَاطِلَ وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَيَّدَ مَأْمُورَهُ۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 435) وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَ فَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ ط وَ مَنْ يَنْقَلِبُ عَلى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ط وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ۔(ال عمران:145) یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کیے گئے تو تم دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 391)