حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 466
466 ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابد الآباد کے لئے خدا ( تعالیٰ ) نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں۔ان ساری گدیوں کو ،، دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا وہ۔یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبین مانو اور کرتو تیں وہی کرو جو تم پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنا لو۔بغدادی نماز معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتہ لگتا ہے اور ایسا ہی یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا الله “ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود بھی نہ تھا پھر یہ کس نے بتایا تھا۔شرم کرو کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے؟ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو مان کر اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے اصل اور سچی بات یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کے طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی۔تمہاری ان بدعتوں اور ٹی نبوتوں نے ہی خدا تعالیٰ کی غیرت کوتحریک دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جو ان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کرے پس اسی کام کے لئے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 65-64) حضرت اقدس کے دعاوی ء نبوت اور رسالت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔۔۔۔الايه۔(احزاب: 41) ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول دمن نیستم رسول و نیاورده ام کتاب اس کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔اسی واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مستمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔اور اس طور سے خاتم النبین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ایک غلطی کا ازالہ۔ر-خ- جلد 18 صفحہ 211-210)