حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 467 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 467

467 یہ کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام نبی رکھا۔یہ بالکل سچی بات ہے۔ہم رسول اللہ علیہ وسلم کو چشمہ افادیت مانتے ہیں ایک چراغ اگر ایسا ہو جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو وہ قابل تعریف نہیں ہے مگر رسول اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔یہ بالکل درست ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی جسمانی ابوت کی نفی کی لیکن آپ کی روحانی ابوت کا استثناء کیا ہے۔اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی تو پھر اس طرح پر معاذ اللہ یہ لوگ آپ کو ابتر ٹھیراتے ہیں۔مگر ایسا نہیں۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ انا أعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔(الکوثر : 2 تا 4 )۔اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی آیت میں فرمایا ہے کہ جسمانی طور پر آپ آب نہیں مگر روحانی سلسلہ آپ کا جاری ہے لکن مافات کے لئے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ آپ خاتم ہیں آپ کی مہر سے نبوت کا سلسلہ چلتا ہے۔ہم خود بخود نہیں بن گئے خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق جو بنایا وہ بن گئے یہ اس کا فعل اور فضل ہے يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ خدا نے جو وعدے نبیوں سے کئے تھے ان کا ظہور ہوا ہے۔براہین (احمدیہ ) میں یہ الہام اس وقت سے درج ہے۔وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا۔صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ۔وَكَانَ أَمْرًا مَّفْعُولاً وغيره اس قسم کے بیسیوں الہام ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہوا تھا۔اس میں ہمارا کچھ تصرف نہیں۔کیا جس وقت اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ وعدے فرمائے ( تھے ) ہم حاضر تھے۔جس طرح خدا تعالیٰ مرسل بھیجتا ہے اسی طرح اپنے یہاں اپنے وعدہ کو پورا کیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 317) میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجودہ مفاسد کے باعث خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور میں اس امر کا اخفاء نہیں کر سکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے۔اسی کا نام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔نباء ایک عربی لفظ ہے اسکے معنے خبر کے ہیں۔اب جو شخص کوئی خبر خدا تعالیٰ سے پا کر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا یہ تو نزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے۔دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول که قولوا انه خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی بعدہ اس امر کی صراحت کرتا ہے۔نبوت اگر اسلام میں موقوف ہو چکی ہے تو یقینا جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 667) و من قال بعد رسولنا و سیدنا انی نبی او رسول علی وجه الحقيقة والافتراء و ترک القرآن و احكام الشريعة الغراء فهو كا فر كذاب غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔انجام آتھم۔ر۔خ۔جلد 11 صفحہ 28-27 حاشیہ )