حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 465
465 وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيا اَوْ مِنْ وَرَاىءٍ حِجَابٍ۔الايتة (الشورى: 52) صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہم رنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب با تیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام و اکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں سوان کا بیان محض انکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور شکر بولتا ہے اور یہ راہ اس امت کے لئے کھلی ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔محدث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ الہی سے مشرف ہوتے ہیں اور ان کا جو ہر نفس انبیاء کے جو ہر نفس سے اشد مشابہت رکھتا ہے اور وہ خواص عجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہو جائے۔برکات الدعا۔رخ- جلد 6 صفحہ 21-20) برکات الدعا۔رخ۔جلد 6 صفحہ 24-23) وَيَجْعَلُ لَكُمْ نُورًا تَمُشُونَ به (الحديد: 29) وَيَجْعَلُ لَكُمْ نُورًا تَمُشُونَ بِه (الحديد: (29) فَالنُّورُ الَّذِى هُوَ الْأَمْرُ الْفَارِقُ بَيْنَ خَوَاصٌ عِبَادِ اللَّهِ وَ بَيْنَ عِبَادِ اخَرِيْنَ هُوَ الْإِلْهَامُ وَ الْكَشْفُ وَالتَّحْدِيثُ وَعُلُومٌ غَامِضَةٌ دَقِيقَةٌ تَنْزِلُ عَلَى قُلُوبِ الْخَوَاصِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ۔(حمامتہ البشری - ر - خ - جلد 7 صفحہ 298) ترجمه از مرتب: - وَيَجْعَلُ لَكُمْ نُورًا تَمُشُونَ بِه - وہ نور جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور دوسرے بندوں میں فراق کرنے والا ہے وہ الہام اور کشف اور محدثیت ہیں۔نیز ایسے گہرے اور دقیق مضامین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خاص بندوں کے دلوں پر نازل ہوتے ہیں۔وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) یہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا اظہار بھی کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور انبیاء کواپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت آتی ہے۔(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 440-439) یقین یا درکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین نہ کرے۔جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبین نہیں مانتا۔کچھ نہیں۔سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔بزہد و ورع کوش وصدق وصفا ولیکن میفز ائے ہر مصطفیٰ ترجمہ :۔زہد اور پر ہیز گاری میں کوشش کرو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے زیادہ نہیں۔