حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 447 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 447

447 قرآن اور حدیث میں اختلاف ضروری امر تو صرف اسی قدر ہے کہ ہر یک حدیث مخالف ہونے کی حالت میں قرآن کریم پر پیش کرنی چاہیئے۔چنانچہ یہ امر ایک مشکوۃ کی حدیث سے بھی حسب منشاء ہمارے بخوبی طے ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔و ان الحارث الاعور قال مررت في المسجد فاذا الناس يخوضون في الاحاديث فدخلت على عـلـى فاخبرته فقال اوقد فعلوها قلت نعم قال اما اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم۔يقول الا انها ستكون فتنة قلت ما المخرج منها يا رسول الله قال كتاب الله فيه خبر ما قبلكم و خبر ما بعد كم و حكم ما بينكم هو الفضل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله و من ابتغى الهدى في غيره اضله الله و هو حبل الله المتين من قال به صدق و من عمل به اجر و من حكم به عدل و من دعا اليه هدى الى صراط مستقیم یعنی روایت ہے حارث اعور سے کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے تھے اور حدیثوں میں خوض کر رہے تھے گزرا۔سو میں یہ بات دیکھ کر کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسری حدیثوں میں کیوں لگ گئے۔علی کے پاس گیا اور اسکو جا کر یہ خبر دی۔علی نے مجھے کہا کہ کیا سچ مچ لوگ احادیث کے خوض میں مشغول ہیں اور قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہیں میں نے کہا ہاں تب علی نے مجھے کہا کہ یقینا سمجھ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ ہوگا یعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں لگیں گی۔اور اختلاف میں پڑینگے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے تب میں نے عرض کی کہ اس فتنہ سے کیونکر رہائی ہوگی تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی اسمیں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنیوالے لوگوں کی بھی خبر ہے اور جو تم میں تنازعات پیدا ہوں انکا میں فیصلہ موجود ہے وہ قول فصل ہے۔ہنزل نہیں جو شخص اسکے غیر میں ہدایت ڈھونڈیگا اور اس کو حکم نہیں بنائی گا خدا تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیگا۔وہ حبل اللہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی۔اس نے سچ کہا۔اور جس نے اسپر عمل کیا وہ ماجور ہے۔اور جس نے اس رو سے حکم کیا۔اس نے عدالت کی۔اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔رواہ الترمذی والدار می۔اب ظاہر ہے کہ اس حدیث میں صاف اور صریح طور پر خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں فتنہ ہو جائے گا۔اور لوگ طرح طرح کی ہدایت نکال لیں گے۔اور انواع و اقسام کے اختلافات اس وقت میں باہم پڑ جائیں گے۔تب اس فتنہ سے مخلصی پانے کے لئے قرآن کریم ہی دلیل ہوگا۔الحق مباحثہ لدھیانہ جلد 4 صفحہ 39)