حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 446 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 446

446 قرآن کریم کے معارض ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے انک لا تسمع الموتى (النمل : 81) اور ابن عمر کی حدیث کو صرف اسی وجہ سے رد کر دیا ہے کہ ایسے معنے معارض قرآن ہیں۔دیکھو بخاری صفحہ 183۔ایسا ہی محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو جو صفحہ 652 میں لکھی ہے یعنی یہ کہ مـا مـن مـولـوديـولـدالا و الشيطن يمسه حين يولد الامريم وابنها۔قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پا کر کہ الا عبادك منهم المخلصين (الحجر: 41 ان عبادی لیس لک عليهم سلطان (الحجر : 43) و سلام عليه يوم ولد (مریم: 16) اس حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پر ہوں جیسا کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے۔قد طعن الزمخشرى فى معنى هذا الحديث و توقف فى صحته وقال ان صح فمعتاه كل من كان في صفتهما لقوله تعالى الا عبادك منهم المخلصين یعنی علامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اسکو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہو سکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ مریم اور ابن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جوان (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 609 610) کی صفت پر ہوں۔مُنِيُبَيِّنَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَلاَ تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(الروم : 32) تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلاَ تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں۔سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تمیں سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی وَاقِیمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 40) إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ۔(الحجر: (41) اسلام میں کفر۔بدعت۔الحاد۔زندقہ وغیرہ۔اسی طرح سے آئے ہیں کہ ایک شخص واحد کے کلام کو اس قدر عظمت دی گئی۔جس قدر کہ کلام الہی کو دی جانی چاہیئے تھی۔صحابہ کرام اسی لیے احادیث کو قرآن شریف سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر فیصلہ کرنے لگے تو ایک بوڑھی عورت نے اُٹھ کر کہا۔حدیث میں یہ لکھا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ میں ایک بڑھیا کے لیے کتاب اللہ کو ترک نہیں کر سکتا۔اگر ایسی ایسی باتوں کو جن کے ساتھ وحی کی کوئی مدد نہیں وہی عظمت دی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کی حیات کی نسبت جو اقوال ہیں ان کو بھی بیچ مان لیا جاوے حالانکہ وہ قرآن شریف کے بالکل مخالف ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 520)