حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 448
448 سچی اور صحیح حدیث کی پہچان کسوف و خسوف والی حدیث کی صداقت میں یہ بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس زمانہ کی تمام نبیوں نے خبر دی ہے۔یہ آخری ہزار کا زمانہ آ گیا ہے اور دیکھو یہ وقت ہے جس کے لیے گیارہ سو برس پہلے کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مہدی کے وقت رمضان میں کسوف خسوف ہوگا اور آدم سے لے کر اس وقت تک کبھی یہ نشان ظاہر نہیں ہوا۔وہ نشان تم نے دیکھ لیا۔پھر یہ کیسی قابل غور بات ہے۔بعض جاہل اعتراض کرتے اور بہانہ بناتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔احمق اتنا نہیں جانتے کہ جس حدیث نے اپنے آپ کو سچا کر دیا ہے وہ کیسے جھوٹ ہو سکتی ہے۔محدثین کے اصول کے مطابق سچی اور صحیح حدیث تو وہی ہے جو اپنی سچائی آپ ظاہر کر دے۔اگر یہ حدیث ضعیف ہوتی تو پھر پوری کیوں ہوتی ؟ دو مرتبہ کسوف خسوف ہوا۔اس ملک میں بھی اور امریکہ میں بھی۔اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو پھر اس کی مثال پیش کریں کہ کسی اور کے زمانہ میں بھی ہوا ہو؟ یہ حدیث اہل سنت اور شیعہ دونوں کے ہاں کتابوں میں موجود ہے۔پھر اس سے انکار کیونکر کیا جاسکتا ہے۔یہ آسمان کا نشان تھا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 668) احادیث کی تصحیح و تغلیط بذریعہ کشف احادیث کے متعلق خود یہ تسلیم کر چکے ہیں۔خصوصاً مولوی محمد حسین اپنے رسالہ میں شائع کر چکا ہے کہ اہل کشف احادیث کی صحت بذریعہ کشف کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حدیث محد ثین کے اصولوں کے موافق صیح بھی ہو تو اہل کشف اسے موضوع قرار دے سکتے ہیں اور موضوع کو صیح ٹھہر اسکتے ہیں۔جس حال میں اہل کشف احادیث کی صحت کے اس معیار کے پابند نہیں جو محدثین نے مقرر کیا ہے بلکہ وہ بذریعہ کشف ان کی صحیح قرار دادہ احادیث کو موضوع ٹھہرانے کا حق رکھتے ہیں تو پھر جس کو حکم بنایا گیا ہے کیا اس کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا ؟ خدا تعالیٰ جو اس کا نام حکم رکھتا ہے یہ نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سارا رطب و یا بس جو اس کے سامنے پیش کی جاوے گا تسلیم نہیں کریگا بلکہ بہت سی باتوں کو ر ڈ کر دے گا اور جو صحیح ہونگی ان کے بیچ ہونے کا وہ فیصلہ دے گا اور نہ حکم کے معنے ہی کیا ہوئے؟ جب اس کی کوئی بات مانی ہی نہیں تو اس کے حکم ہونے سے فائدہ کیا ؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحه 21-20) کیا آپ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فہم قرآن عطا کرے اور تفہیم الہی سے وہ مشرف ہو جاوے اور اسپر ظاہر کر دیا جائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت سے فلاں حدیث مخالف ہے اور یہ علم اس کا کمال یقین اور قطعیت تک پہنچ جائے تو اس کیلئے یہی لازم ہوگا کہ حتی الوسع اول ادب کی راہ سے اس حدیث کی تاویل کر کے قرآن شریف سے مطابق کرے۔اور اگر مطابقت محالات میں سے ہوا اور کسی صورت سے نہ ہو سکے تو بدرجہ نا چاری اس حدیث کے غیر صحیح ہونے کا قائل ہو۔کیونکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم بحالت مخالفت قرآن شریف حدیث کی تاویل کی طرف رجوع کریں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر-خ- جلد 4 صفحہ (21)