حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 427
427 قرآن کریم کا مرکزی موضوع توحید باری تعالیٰ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ ايتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ۔إِلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيْرٌ۔(هود:2-3) ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے۔یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله خدا تعالیٰ کے سوا ہر گز ہرگز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کبھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مَوْرٌ مَّعَبَّدٌ جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر۔پتھر۔ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور ناہمواری کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔قرآن شریف یہ دعویٰ کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 83) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگر ان کے نزدیک کوئی اختلاف تھا تو وہ پیش کرتے۔مگر سب ساکت ہو گئے اور کسی نے دم نہ مارا اور اختلاف کیونکر اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرا یہ میں خدا کی تو حید پر قائم کرنا اور ہوا و ہوس چھوڑ کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدعا ہے۔چشمہ معرفت - ر- خ - جلد 23 صفحہ 198 ) ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 347-346)