حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 428
428 وید کی تعلیمیں ہم نے بطور نمونہ کے بیان کی ہیں۔اور ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف کی تعلیمیں اس کے مخالف ہیں۔وہ دنیا میں توحید قائم کرنے آیا ہے۔اس میں توحید کی تعلیم شمشیر برہنہ کی طرح ہے۔اسکواول سے آخر تک پڑھو۔وہ یہ نہیں سکھاتا کہ خدا کے بغیر کسی چیز کی پرستش کرو۔اور اس سے مرادیں مانگو۔اور اس کی مہما اور استت بیان کرو۔وہ خدا کی کتابوں کو نہ کسی خاص ملک سے محدود کرتا ہے۔اور نہ کسی خاص قوم سے۔وہ بیان کرتا ہے کہ وہ ایک دائرہ کو ختم کرنے آیا ہے۔جس کے متفرق طور پر تمام دنیا میں نقطے موجود تھے۔اب وہ ان تمام نقطوں میں خط کھینچ کر ان سب کو ایک دائرہ کی طرح بناتا ہے۔اور اس طرح پر تمام قوموں کو ایک قوم بنانا چاہتا ہے۔لیکن نہ وقت سے پہلے بلکہ ایسے وقت میں جبکہ خود وقت گواہی دیتا ہے۔کہ اب ضرور یہ تمام قومیں ایک قوم ہو جائیں گی۔(نیم دعوت۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 432-431) کلمہ توحید۔قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ ہے فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَ اللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَنْوا يكُمْ۔(محمد: 20) کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔الہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کیلئے آتا ہے۔یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے۔چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یاد کرنا آسان نہیں اس لئے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تا کہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مد نظر رکھے اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے بیچ یہی ہے کہ نجات نہیں اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 89) توحید کے مراتب ہوتے ہیں بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔نرا لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ ہی کہہ دینا کافی نہیں یہ تو شیطان بھی کہہ دیتا ہے۔جب تک عملی طور پر لا إِلهَ إِلَّا اللہ کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو کچھ نہیں۔یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے آپ ہی بتا دیں۔توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سرزد نہ ہو اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔گویا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہو جاوے اس واسطے اس کے معنے یہ ہیں لَا مَعْبُوْدَ لِيْ وَلَا مَحْبُوبَ لِيْ وَلَا مُطَاعَ لِى إِلَّا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوانہ کوئی میرا معبود ہے اور نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 448)