حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 426 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 426

426 موضوعات قرآنیہ چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورہ مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَلَقَداتَيْنكَ سَبْعَامِّنَ الْمَثَانِي وَ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ مشتمل (الحجر: 88) یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قر آنیہ پر ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطافرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورہ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا غرض قرآن شریف اور حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورت فاتحہ ممدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔اس کی تصریح یہ ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامد کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے اور اس کی ذات کے لیے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے سو یہ مقصد الحمدللہ میں بطور جمال آ گیا کیونکہ اس کے یہ معے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لیے ثابت ہیں جو جمع جمیع کمالات اور ستحق جميع عبادات ہے۔دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العلمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتدا کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں ان کا کذب ثابت کرتا ہے سو یہ مقصد رب العلمین میں بطورا جمال آ گیا۔تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اس کی رحمت عامہ کا بیان کرتا ہے سو یہ مقصد لفظ رحمان میں بطور ا جمال آ گیا۔چوتھا مقصد قرآن شریف کا خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے سو یہ مقصد لفظ رحیم میں آ گیا۔پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرتا ہے سو یہ مقصد مالک یوم الدین میں آ گیا۔چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاح اخلاق رد یہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد ایاک نَعْبُدُ میں بطور اجمال آ گیا۔ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر ایک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام تو فیق اور لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصول جمیع اسباب خیر اور صلاحیت دنیا و دین اسی کی طرف اسے قرار دینا اور ان تمام امور میں اسی سے مدد چاہنے کے لیے تاکید کرنا سو یہ مقصد ایاک نَسْتَعِيْنُ میں بطور ا جمال آ گیا۔آٹھواں مقصد قرآن شریف کا صراطِ مستقیم کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کی طلب کے لیے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرع سے اس کو طلب کریں سو یہ مقصد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بطور اجمال کے آ گیا۔نواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا طریق وخلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام وفضل ہوا تا طالبین حق کے دل جمعیت پکڑیں سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آ گیا۔دسواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا۔یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے تا حق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں سو یہ مقصد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں بطور اجمال آ گیا ہے یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں۔جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں سو یہ تمام مقاصد سورہ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے۔(براہین احمدیہ - ر- خ - جلد 1 صفحہ 585-580 حاشیہ نمبر (11)