حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 425
425 وَمِنْهَا أُمُّ الْقُرْآنِ بِمَا جَمَعَتْ مَطَالِبَهُ كُلَّهَا بِأَحْسَنِ الْبَيَانِ۔وَتَأَبَّطَتْ كَصَدَفٍ دُرَرَ الْفُرْقَانِ وَ صَارَتْ كَعُشّ لِطَيْرِالْعِرْفَانِ۔فَإِنَّ الْقُرْآنَ جَمَعَ عُلُوْمًا اَرْبَعَةً فِي الْهَدَايَاتِ۔عِلْمَ الْمَبْدَءِ وَ عِلْمَ الْمَعَادِ وَ عِلْمَ النُّبُوَّتِ وَ عِلْمَ تَوْحِيدِ الذَّاتِ وَالصّفَاتِ۔وَلَا شَكُ أَنَّ هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ مَوْجُوْدَةٌ فِي الْفَاتِحَةِ۔وَمَوْءُ وْدَةٌ فِي صُدُورِ أَكْثَرِ عُلَمَاءِ الْأُمَّةِ۔يَقْرَءُ وْنَهَا وَهِيَ لَا تُجَاوِزُ مِنَ الْحَنَاجِرِ۔لَا يُفَجِّرُوْنَ اَنْهَارَهَا السَّبْعَةَ بَلْ يَعِيْشُوْنَ كَالْفَاجِرِ۔سورۃ فاتحہ کا ایک نام ام القرآن سورۃ فاتحہ کا ایک نام ام القرآن بھی ہے کیونکہ وہ تمام قرآنی مطالب پر احسن پیرایہ میں حاوی ہے اور اس نے سیپ کی طرح قرآن کریم کے جواہرات اور موتیوں کو اپنے اندر لیا ہوا ہے اور یہ سورۃ علم وعرفان کے پرندوں کے لیے گھونسلوں کی مانند بن گئی ہے۔یادر ہے کہ قرآن کریم میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے چار مضامین بیان کیئے گئے ہیں۔ا علم مبدء۔۲۔علم معاد ۳ علم نبوت۔۴۔علم تو حید ذات وصفات۔اور لا ریب یہ چاروں علوم سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔اور یہ علوم اکثر علمائے امت کے سینوں میں زندہ درگور کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ سورۃ فاتحہ کو پڑھتے تو ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی اور وہ اس کی ان سات نہروں کو پوری طرح جاری نہیں کرتے تا وہ خود بھی اور دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں بلکہ وہ فاجر لوگوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں۔(اعجاز مسیح رخ۔جلد 18 صفحہ 75-74)