حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 362 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 362

362 مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ آریہ اور عیسائی اعتراض کر دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں قسمیں کیوں کھائی ہیں۔اور پھر اپنی طرف سے حاشیہ چڑھا کر اس کو عجیب عجیب اعتراضوں کے پیرا یہ میں پیش کرتے ہیں۔حالانکہ اگر ذرا بھی نیک نیتی اور فہم سے کام لیا جاوے تو ایسا اعتراض بیہودہ اور بیسود معلوم دیتا ہے۔کیونکہ قسموں کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ قسم کھانے کا اصل مفہوم اور مقصد کیا ہوتا ہے۔جب اس کی فلاسفی پر غور کیا جاوے تو پھر یہ خود بخودسوال حل ہو جاتا ہے اور زیادہ رنج اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ قسم بطور قائم مقام گواہ کے ہوتی ہے۔اور یہ مسلم بات ہے کہ عدالت جب گواہ پر فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ پر فیصلہ کرتی ہے۔یا قسم کھانے والے کی قسم کو ایک شاہد صادق تصور کرتی ہے۔یہ روز مرہ کی بات ہے۔جہالت یا تعصب سے اعتراض کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت کو مد نظر رکھ کر کوئی بات کہنا اور۔اب جب کہ یہ عام طریق ہے کہ قسم بطور گواہ کے ہوتی ہے۔پھر یہ کیسی سیدھی بات ہے کہ اسی اصول پر قرآن شریف کی قسموں کو دیکھ لیا جاوے۔کہ وہاں اس سے کیا مطلب ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں کوئی قسم کھائی ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے بدیہی کو گواہ ٹھہراتا ہے۔جیسے فرمایا: وَالسَّـــــــاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَوْل فَضل ( الطارق: 14-12 ) اب یہ بھی ایک قسم کا محل ہے۔نادان قرآن شریف کے حقائق سے ناواقف اور نابلد۔اپنی جہالت سے یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ دیکھو زمین کی یا آسمان کی قسم کھائی۔لیکن اس کو نہیں معلوم کہ اس قسم کے نیچے کیسے کیسے معارف موجود ہیں۔اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحی الہی کے دلائل اور قرآن شریف کی حقانیت کی شہادت پیش کرنی چاہتا ہے اور اس کو اس طرز پر پیش کیا ہے۔غیر اللہ کی قسم کھا نا کلمہ کفر ہے ( ملفوظات جلد دوم صفحه 712-711) سواؤل قسم کے بارے میں خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ جل شانہ کی قسموں کا انسان کی قسموں پر قیاس کر لینا قیاس مع الفارق ہے خدا تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا قائم مقام ٹھہرا دے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کا اصل مفہوم شہادت ہی ہے۔جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اس سے وہ فائدہ اٹھا دے جو ایک شاہد رویت کی شہادت سے اٹھانا چاہئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے اور بھی حاضر ناظر ہے۔اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کفر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں انسان کے لئے یہی تعلیم ہے کہ غیر اللہ کی ہرگز فتم نہ کھاوے۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ- جلد 5 صفحہ 96-95 حاشیہ )